بھارت کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار، 9 فیصد خودکشی کا سوچنے لگے

منگل 29 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی صحت سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے مقرر کردہ پینل کے سروے میں 9 فیصد طلبہ نے گزشتہ ایک سال کے دوران اکثر یا بہت زیادہ خودکشی کے خیالات آنے کی اطلاع دی ہے۔

نیشنل ٹاسک فورس کے ملک گیر سروے میں 2 لاکھ 43 ہزار سے زائد طلبہ کی رائے شامل کی گئی، جن میں 67 فیصد کا تعلق ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طبقات سے تھا۔

سروے کے مطابق 15 فیصد طلبہ نے بتایا کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران وہ کئی ہفتوں تک شدید ذہنی دباؤ یا بے چینی کا شکار رہے۔

تقریباً 34 فیصد طلبہ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے کسی نہ کسی حد تک کیمپس میں خود کو دوسروں سے الگ یا باہر کا فرد محسوس کیا۔

طلبہ کی جانب سے اداروں میں دستیاب معاونت کے حوالے سے بھی مختلف آرا سامنے آئیں۔ 56 فیصد طلبہ نے کہا کہ انہیں اعتماد ہے کہ انتظامیہ سنگین معاملات کو منصفانہ انداز میں نمٹائے گی، تاہم تقریباً 32 فیصد نے بتایا کہ ان کے ادارے میں کونسلنگ کی سہولت موجود نہیں۔

حکام کے مطابق طلبہ میں تعلیمی انتخاب اور مستقبل میں روزگار کے حوالے سے مسلسل فکرمندی بھی نمایاں رہی۔

یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارت میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی خودکشیوں پر ایک بار پھر بحث جاری ہے۔ آئی آئی ٹی دہلی اور آئی آئی ٹی بمبئی میں 2 طلبہ کی اموات کے بعد بھی اس معاملے پر شدید تشویش سامنے آئی تھی۔

سپریم کورٹ کے پینل نے اپنی رپورٹ میں اعلیٰ تعلیم کے دوران طلبہ کو درپیش سماجی اور ادارہ جاتی مسائل کی بھی نشاندہی کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق طلبہ نے گہرے سماجی امتیاز، میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں میں جنسی ہراسانی اور بعض جامعات میں اساتذہ کی جانب سے صنفی امتیاز کی شکایات کیں۔

یہ بھی پڑھیں چیٹ جی پی ٹی سے نقل کا الزام عائد ہونے پر بھارتی طالب علم نے خودکشی کرلی

طلبہ نے داخلوں، گریڈنگ، زبان کے فرق اور اساتذہ کی توجہ کے معاملے میں ذات کی بنیاد پر مبینہ تذلیل اور امتیاز کی بھی شکایات کیں، جبکہ نیٹ یو جی (NEET-UG) اور جے ای ای (JEE) رینکس کی بنیاد پر طلبہ کی ذات کی شناخت کا معاملہ بھی رپورٹ میں شامل تھا۔

تاہم ٹاسک فورس کے ایک سینئر عہدیدار نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ موجودہ سروے کے نمونے کی عدم نمائندگی کے باعث ان مشاہدات کو ابتدائی اور عارضی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

عہدیدار کے مطابق ابتدائی رجحانات طلبہ کے لیے معیاری معاونتی نظام، اساتذہ کی تربیت، ذہنی صحت سے متعلق منفی تاثر کم کرنے، بحرانی صورت حال سے نمٹنے کے واضح طریقہ کار اور طلبہ کی ذہنی صحت کی باقاعدہ نگرانی کی ضرورت ظاہر کرتے ہیں۔

ٹاسک فورس نے سروے کے علاوہ مختلف تعلیمی اداروں کے دورے اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت بھی کی۔ اب تک دہلی اور این سی آر، تمل ناڈو، کرناٹک، آسام اور مغربی بنگال میں 19 اداروں کے مقامات پر 30 اجلاس کیے جا چکے ہیں۔

مختلف اداروں میں طلبہ نے سخت حاضری پالیسی، بھاری تعلیمی شیڈول، میڈیکل اور کلینیکل شعبوں میں اضافی بوجھ اور میڈیکل طلبہ کے طویل آن کال اوقات کو مسائل میں شمار کیا۔

انجینئرنگ کالجوں میں گریڈنگ اور ملازمتوں کے لیے سخت معیار کے باعث شدید مسابقت، ریاستی جامعات میں اساتذہ کی کمی اور ناکافی تعلیمی معاونت کی شکایات بھی سامنے آئیں۔

یہ بھی پڑھیے میڈیکل انٹری ٹیسٹ پیپر لیک اسکینڈل، بھارت میں کم از کم 20 طلبہ کی خودکشی

ڈینٹل اور نرسنگ سمیت بعض شعبوں میں عملی تربیت کی کمی کے باعث طلبہ نے خود کو پیشہ ورانہ عملی کام کے لیے ناکافی طور پر تیار محسوس کرنے کی نشاندہی کی، جبکہ پی ایچ ڈی طلبہ نے بعض سپروائزرز کی جانب سے غفلت، حد سے زیادہ کنٹرول اور استحصال کی شکایات بھی بیان کیں۔

نیشنل ٹاسک فورس کو سپریم کورٹ نے مارچ 2025 میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی بڑھتی ہوئی خودکشیوں، ذہنی صحت اور فلاح و بہبود سے متعلق مسائل کا جائزہ لینے کے لیے قائم کیا تھا۔ پینل کی حتمی رپورٹ 31 اکتوبر تک پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی وزیر داخلہ کا اسلام آباد پولیس لائنز اور پاکستان مونومنٹ کا دورہ، پاکستانی پرچم کو بوسہ بھی دیا

بحیرۂ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملے، بلغاریہ کا روسی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ

صارفین کو 1.2 ارب روپے کا ریلیف، بینکنگ محتسب نے 29 ہزار سے زائد شکایات نمٹا دیں

پاکستان سے یورپ کی جانب غیر قانونی نقل مکانی میں 64 فیصد کمی

’آج بھی خود کو بس کنڈکٹر سمجھتا ہوں‘، رجنی کانت نے بس کنڈکٹر کی ملازمت کو اداکاری سے بہتر کیوں قرار دیا؟

ویڈیو

دہشتگردی کے خلاف ایک ملک میں 2 پالیسیاں نہیں چل سکتیں، اعظم نذیر تارڑ اور عطا اللہ تارڑ کی مشترکہ بریفنگ

3 مرتبہ حکومت کے باوجود پی ٹی آئی دیر، پشاور موٹروے بنانے میں ناکام، عوام کا احتجاج

میری بیٹی ڈاکٹر عبد القدیر خان جیسی سائنسدان بننا چاہتی تھی، کاش! میں نے ایجنٹ کی تصدیق کر لی ہوتی، لائبہ کے والد کی دردناک روداد

کالم / تجزیہ

پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہے؟

میری موت، میری مرضی

کیا پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمان سے کچھ سیکھ پائے گی؟