امرتسر میں سکھوں کے مقدس ترین مقام گولڈن ٹیمپل کے باہر امریکی سفیر کے دورے کے دوران سکھ کارکنوں کے احتجاج اور خالصتان کے حق میں نعروں نے سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھا دیے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور نے امرتسر میں گولڈن ٹیمپل کا دورہ کیا اور حاضری دی۔ اس موقع پر سکھ کارکنوں نے گردوارے کے باہر احتجاج کیا اور خالصتان کے حق میں نعرے لگائے۔
یہ بھی پڑھیے خالصتان گروپ کی صدر ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی پیشکش
واقعہ امرتسر میں ایک حساس اور سخت سیکیورٹی والے مقام پر پیش آیا، جہاں امریکی سفیر سکھ برادری کے مقدس ترین مذہبی مرکز کا دورہ کر رہے تھے۔ احتجاج اور نعروں کے باعث اعلیٰ سطح کے غیر ملکی سفارت کار کے دورے کے دوران سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
واقعے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھگونت مان کی قیادت میں قائم عام آدمی پارٹی کی پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
بی جے پی ترجمان آر پی سنگھ نے سوال اٹھایا کہ مظاہرہ ہونے کے وقت پنجاب انٹیلی جنس بیورو کہاں تھا؟ وزیر اعلیٰ بھگونت مان کو وضاحت کرنی چاہیے کہ خالصتان کے حامی کارکنوں کو احتجاج کرنے کی اجازت کیسے ملی؟ انہوں نے کہا کہ سیاسی مفادات کو پنجاب کے امن اور سیکیورٹی پر حاوی نہیں ہونے دیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیے خالصتان تحریک نے اب تک کیا حاصل کیا؟
یہ واقعہ خالصتان کے مطالبے اور علیحدہ سکھ ریاست کے قیام کی حمایت کرنے والے گروہوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے جاری سیاسی حساسیت کے دوران سامنے آیا ہے۔













