گندم کی درآمد سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان یعنی ٹی سی پی کو ایک لاکھ 85 ہزار میٹرک ٹن گندم کی خریداری کے لیے موصول ہونے والی کم ترین بولی یا بولیوں کو قبول کرنے کا عمل آگے بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت فوڈ ایئر 27-2026 کے لیے گندم کی درآمد سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کے 7ویں اجلاس میں گندم کی درآمد کے انتظامات اور پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: گندم کی قیمتیں مستحکم رکھنے کے لیے وفاقی حکومت متحرک، ڈھائی لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی ہدایت
اجلاس میں سندھ کی گندم کی ضرورت پوری کرنے کے لیے باقی ماندہ ایک لاکھ 85 ہزار میٹرک ٹن گندم کی درآمد کے معاملے پر غور کیا گیا۔
کمیٹی نے ٹی سی پی کو ہدایت کی کہ باقی مقدار کی خریداری کے لیے موصول ہونے والی کم ترین بولی یا بولیوں کو قبول کرنے کا عمل آگے بڑھایا جائے۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 chaired the 7th Meeting of the Steering Committee on Wheat Imports for Food Year 2026–27.
The Committee reviewed progress on wheat import arrangements and directed the Trading Corporation of Pakistan… pic.twitter.com/elbbZZw2r5
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 30, 2026
اسحاق ڈار نے پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ گندم کی درآمد کے عمل میں تاخیر سے بچنے کے لیے مطلوبہ ادائیگیاں فوری طور پر مکمل کریں اور ٹی سی پی کے ساتھ سہ فریقی معاہدے بھی جلد طے کریں۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ گندم کی درآمد کا مقصد ملک میں گندم کی وافر فراہمی یقینی بنانا اور اسے مناسب نرخوں پر دستیاب رکھنا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: کسان اونے پونے فصل بیچنے پر مجبور، گندم کے موجودہ بحران کی اصل وجوہات کیا ہیں؟
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، سندھ کے وزیر خوراک، معاون خصوصی وزیراعظم طارق باجوہ، سیکریٹری تجارت، مینیجنگ ڈائریکٹر پاسکو، متعلقہ صوبائی سیکریٹریز اور وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے سینئر حکام نے شرکت کی۔












