بھارت کے آندھرا میڈیکل کالج میں 5 روز کے دوران 2 پوسٹ گریجویٹ طالبات کی مبینہ خودکشی کے واقعات کے بعد پولیس اور محکمۂ طبی تعلیم نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
پہلا واقعہ 24 ستمبر کو پیش آیا، جب ایم ڈی جنرل میڈیسن کے آخری سال کی طالبہ ڈاکٹر پی سیلجا رام نگر میں اپنی رہائش گاہ پر پھندے سے لٹکی ہوئی پائی گئیں۔
پولیس کے مطابق اہل خانہ نے بتایا کہ سیلجا جاری امتحانات میں اپنی کارکردگی سے پریشان تھیں اور امتحانات سے متعلق دباؤ ان کی موت کا ایک سبب ہوسکتا ہے۔ واقعے پر ان کے والد کی شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کرکے تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بھارت کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار، 9 فیصد خودکشی کا سوچنے لگے
اس واقعے کے صرف 4 روز بعد، 28 ستمبر کی صبح آندھرا میڈیکل کالج کی ایک اور پوسٹ گریجویٹ طالبہ وائی شراونی اپنی کرائے کی رہائش گاہ پر مردہ پائی گئیں۔
پولیس نے جائے وقوعہ کا جائزہ لینے کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے کنگ جارج اسپتال منتقل کردیا۔ پولیس کے مطابق شراونی کا تعلق حیدرآباد سے تھا اور وہ کالج کے شعبۂ ای این ٹی میں پہلے سال کی پوسٹ گریجویٹ طالبہ تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شراونی نے ایک نوٹ بھی چھوڑا، جس میں کسی کو اپنی موت کا ذمہ دار نہ ٹھہرانے کی بات لکھی گئی تھی۔
مسلسل 2 واقعات کے بعد آندھرا پردیش کے وزیر صحت ستیہ کمار یادو نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر میڈیکل ایجوکیشن اے وشو وردھن کو تحقیقات کی ہدایت کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارتی پنجاب کی یونیورسٹی میں طالبہ سے زیادتی اور خودکشی کا مبینہ واقعہ، پرتشدد احتجاج شروع
دوسری جانب آندھرا میڈیکل کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طلبہ کے لیے باقاعدگی سے کونسلنگ کا انتظام کیا جارہا ہے۔ انتظامیہ نے طلبہ اور والدین پر بھی زور دیا ہے کہ مشکلات کا سامنا ہونے کی صورت میں کالج حکام کو فوری طور پر آگاہ کریں۔
دونوں واقعات کے مکمل پس منظر اور وجوہات کا تعین پولیس اور محکمۂ طبی تعلیم کی جاری تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔













