متحدہ عرب امارات سے اسرائیل جانے والی فلاٸی دبئی کی پرواز میں پائلٹس کے درمیان مبینہ جھگڑے کے بعد طیارے کو ہنگامی طور پر سعودی عرب میں اتار لیا گیا جبکہ مسافروں نے دورانِ پرواز پیش آنے والے خوفناک لمحات کی تفصیلات بیان کردی ہیں۔
’میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک خاتون مسافر نے پیغام کے ذریعے بتایا کہ طیارے میں اچانک چیخ و پکار شروع ہوگئی، جس کے بعد کاک پٹ کا دروازہ کھولا گیا تو وہاں خون نظر آیا۔ مسافر کے مطابق ایک پائلٹ کو مبینہ طور پر جیب میں رکھنے والے چاقو سے زخمی کیا گیا تھا۔ خاتون نے بتایا کہ طیارے کے عملے اور اسرائیلی مسافروں نے مبینہ حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد کی۔
یہ بھی پڑھیں: زیورخ سے دہلی جانے والی پرواز سے قبل ایئر انڈیا کا پائلٹ الکوحل ٹیسٹ میں ناکامی پر معطل
ایک اور مسافر نے بتایا کہ ایک پائلٹ کے زخمی ہونے کے بعد طیارے کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہوگئی تھی۔ ان کے مطابق مسافروں کو صورتحال کا اندازہ ہوا تو طیارے میں چیخ و پکار شروع ہوگئی جبکہ طیارہ اچانک تیزی سے نیچے کی جانب جانے لگا۔ اس دوران مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور بعض افراد کو اپنی جان بچنے کی امید بھی نہیں رہی۔ مسافر نے بتایا کہ ایسے لمحات بھی آئے جب ہمیں لگا کہ شاید ہم زندہ نہیں بچ سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مسافر کی طبیعت اچانک بگڑنے پر پی آئی اے پرواز کی مانچسٹر ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ
فلاٸی دبئی کی پرواز FZ1073 دبئی سے تل ابیب جارہی تھی کہ اردن کی فضائی حدود میں پرواز کے دوران اس نے اچانک اپنا رخ تبدیل کرکے سعودی عرب کی جانب موڑ لیا۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے مطابق طیارے نے ہنگامی سگنل بھیجا جس کے چند منٹ بعد ممکنہ غیر قانونی مداخلت کی نشاندہی کرنے والا ایک اور سگنل بھی موصول ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: دوران پرواز طیارے کے شدید جھٹکے، چھت کے پینل ٹوٹ گئے، مسافر خوفزدہ
بوئنگ 737 طیارہ بعد ازاں شمال مغربی سعودی عرب کے شہر تبوک کے ایئرپورٹ پر اتر گیا۔ فلائٹ ڈیٹا کے مطابق طیارے نے پہلے ہنگامی سگنل بھیجنے سے قبل 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں تقریباً 14 ہزار فٹ کی تیزی سے بلندی کھوئی۔ ابتدائی طور پر واقعے کو ممکنہ ہائی جیکنگ سے جوڑا گیا تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر کے ترجمان نے ہائی جیکنگ کی تردید کردی۔
بعد ازاں مختلف رپورٹس نے ایئرلائن کے حوالے سے بتایا کہ ہائی جیکنگ کا سگنل طیارے میں موجود دونوں پائلٹس کے درمیان ہونے والی مبینہ لڑائی کے باعث فعال ہوا تھا۔














