نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی بھرپور نمائندگی کی اور فلسطین اور کشمیر کے معاملے پر دلیرانہ انداز میں دوٹوک مؤقف پیش کیا۔ دورہ نیویارک کے دوران 5 روز میں روزانہ اوسطاً 12 ملاقاتیں ہوئیں، جن میں عالمی رہنماؤں اور مختلف ممالک کے نمائندوں سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستانی وفد نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس اور اسلامی تعاون تنظیم کے مختلف اجلاسوں میں شرکت کی۔ اس دوران کئی عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی ہوئیں، جبکہ دورے کے دوران ہونے والی ملاقاتیں انتہائی اہمیت کی حامل تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں اور مختلف عالمی فورمز میں شرکت کا اہم موقع ہوتا ہے۔ اس دوران سفارتی سرگرمیوں، دوطرفہ ملاقاتوں اور قومی مفادات سے متعلق امور پر گفتگو کے ذریعے کئی اہم اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
فلسطین، کشمیر اور بھارت کے ساتھ جنگ کا معاملہ
نائب وزیراعظم کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں پاکستان کا مؤقف عالمی برادری کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے فلسطین کے معاملے پر پاکستان کے دیرینہ اور دوٹوک مؤقف کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا، جبکہ کشمیر اور بھارت کے ساتھ مئی 2025 کی جنگ کے حوالے سے بھی عالمی برادری کو آگاہ کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان امن اور مذاکرات کے فروغ کے لیے گزشتہ 2 سال کے دوران کی جانے والی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ پاکستان نے کثیرالجہتی سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل اور کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے سے متعلق قرارداد 12 سال بعد متفقہ طور پر منظور کی گئی، جو عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر بھی اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس حوالے سے اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں اقوام متحدہ کے کردار کو مزید مضبوط بنانے اور رکن ممالک کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستانی وفد کی سرگرمیاں معمول سے زیادہ تھیں۔ 5 روز کے دوران ملاقاتوں اور اجلاسوں میں شرکت کے باعث مصروفیت انتہائی زیادہ رہی، جس کے باعث صحافیوں سے تفصیلی گفتگو کا موقع نہیں مل سکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کے دوران پاکستان کا پیش کردہ مؤقف کئی سال بعد متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان لڑائی کے دوران بھی پیش رفت کے حوالے سے استعمال کیا گیا، جو پاکستان کی سفارتی کوششوں کا اعتراف ہے۔
امریکا ایران مذاکرات اور 47 سال بعد سفارتی پیش رفت
نائب وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی اپنے خطاب میں اجاگر کیا۔ 47 سال بعد دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان نے کردار ادا کیا۔ اسلام آباد میں 10 اور 11 اپریل کو ہونے والے مذاکرات میں 21 گھنٹے کے دوران 6 نشستیں ہوئیں، جن میں مشاورتی وقفے بھی شامل تھے۔ بعد ازاں 18 جون کو معاہدے پر دستخط ہوئے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم نے آبنائے ہرمز کی صورتحال اور اس کے عالمی توانائی کی ترسیل پر منفی اثرات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے باب المندب اور بحیرہ مردار کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان حالات کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین متاثر ہوئی، جس کے اثرات عام عوام تک پہنچے۔
ایندھن ریلیف اسکیم کا ذکر
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً دوگنا اضافے کی صورتحال پیدا ہوئی، تاہم حکومت نے مالی مشکلات اور عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کے باوجود موٹر سائیکلوں، تین پہیوں والی گاڑیوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ریلیف فراہم کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایندھن پر سبسڈی کی تجویز کی منظوری دی، جس سے لاکھوں افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
نائب وزیراعظم کے مطابق وزیراعظم نے اس ریلیف اسکیم کی منظوری دے کر ایک اہم اقدام کیا۔ حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات کے ساتھ ایندھن کی سبسڈی کے معاملات پر مسلسل اجلاس کیے اور وزیراعظم نے بھی اس حوالے سے اجلاس کی صدارت کی۔
افغانستان سے دہشت گردی اور علاقائی صورتحال
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان سے پاکستان کو درپیش دہشت گردی کے خطرات اور اس کے منفی اثرات کو بھی اقوام متحدہ کے فورم پر کھل کر بیان کیا۔ انہوں نے سعودی عرب سے متعلق حالیہ پیش رفت اور حوثی حملوں کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ دورہ نیویارک کے دوران وزیراعظم نے پاکستان کی بھرپور اور جامع نمائندگی کی، جس پر وہ انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے مختلف اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں بھی شرکت کی، جن میں ترقی کے حق سے متعلق اعلامیے کی 40ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والا اجلاس بھی شامل تھا۔ وزیراعظم نے اس اجلاس میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا، جبکہ اسحاق ڈار اور دیگر پاکستانی حکام نے بھی شرکت کی۔
چین کے عالمی ترقیاتی اقدام کے اجلاس میں شرکت
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ وزیراعظم نے چین کے عالمی ترقیاتی اقدام سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بھی شرکت کی، جس میں عالمی ترقی کے حوالے سے اہم امور زیر بحث آئے۔
اسحاق ڈار کا اقوام متحدہ اجلاس میں وزیراعظم کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ شہباز شریف نے دورہ نیویارک کے دوران عالمی ترقی، تجارت، معیشت اور علاقائی امن سمیت اہم امور پر متعدد اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں شرکت کی۔ وزیراعظم نے چین کے عالمی ترقیاتی اقدام سے متعلق اجلاس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، کویت، ایران، شام، بنگلہ دیش اور لبنان کے رہنماؤں سمیت کئی عالمی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ وزیراعظم نے ترقی کے حق سے متعلق اعلامیے کی 40ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والے اجلاس میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ اس کے علاوہ چین کے عالمی ترقیاتی اقدام سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بھی شرکت کی، جہاں وزیراعظم کو خطاب کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ اجلاس میں چین کے نائب صدر سمیت دیگر رہنما شریک تھے۔
ٹرمپ کی ضیافت میں وزیراعظم کی شرکت
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سربراہانِ وفود کے اعزاز میں دی گئی خصوصی ضیافت میں بھی وزیراعظم شہباز شریف کو مدعو کیا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے اس تقریب کے دوران امریکی صدر اور پاکستانی وزیراعظم کی ملاقات کی تصاویر بھی جاری کیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا دورہ پاکستان متوقع
اسحاق ڈار کے مطابق وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی، جس میں انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت دی گئی، جو انہوں نے قبول کرلی۔ سیکریٹری جنرل کا دورِ عہدہ 31 دسمبر کو ختم ہو رہا ہے اور توقع ہے کہ وہ اس سے پہلے پاکستان کا دورہ کریں گے۔
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی کویت کے ولی عہد اور وزیراعظم سے بھی وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی، جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کویت سے پاکستان کو طویل عرصے سے ڈیزل کی فراہمی جاری ہے اور ماضی میں اس حوالے سے معاہدوں کی مدت میں توسیع بھی کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کینیا کے صدر، بوسنیا کے چیئرمین، ایران اور شام کے صدور، بنگلہ دیش کے رہنما طارق رحمان اور لبنان کے وزیراعظم سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے۔
لبنان کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف
اسحاق ڈار نے بتایا کہ لبنان کے وزیراعظم نے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاملے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی تھی کہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہو۔ لبنان کے وزیر خارجہ نے بھی 19 مارچ کو ریاض میں ہونے والی ملاقات کے دوران پاکستان کی کوششوں کو سراہا تھا۔
یورپی یونین سے تجارت اور جی ایس پی پلس پر بات چیت
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے یورپی کمیشن اور یورپی کونسل کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔ جی ایس پی پلس کی آئندہ مدت میں تجدید کے معاملے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
نائب وزیراعظم کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر سے وزیراعظم کی ملاقات بھی مثبت رہی۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں اور معاشی ڈھانچے میں اصلاحات کو سراہتے ہوئے وزیراعظم کو مبارک باد دی۔
امریکی کاروباری شخصیات سے بھی ملاقاتیں
اسحاق ڈار نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پرنس کریم آغا خان سے بھی ملاقات کی، جن کے صاحبزادے چند ماہ قبل پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکا میں پاکستانی نژاد کاروباری شخصیات اور بڑے کاروباری اداروں کے نمائندوں سے بھی ملاقات ہوئی۔ امریکی پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد میں پیپسی کو، کوکا کولا اور دیگر بڑی کمپنیوں کے نمائندے شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی بل گیٹس سے بھی ملاقات طے تھی، تاہم بیک وقت ہونے والی دوسری اہم مصروفیت کے باعث وہ اس میں شرکت نہیں کرسکے۔ وزیراعظم نے امریکا میں مقیم پاکستانی نژاد نوجوانوں کے چھوٹے گروپوں سے بھی ہوٹل میں ملاقات کی۔
اسحاق ڈار کی کثیرالجہتی اجلاسوں میں شرکت
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر انہوں نے خود بھی متعدد اہم کثیرالجہتی اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ ان میں فلسطین کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم کی 6 ملکی کمیٹی، 8 عرب اور اسلامی ممالک کے گروپ اور علاقائی چار ملکی گروپ کے اجلاس شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے معاملے پر گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات کے بعد 8 ممالک کے گروپ کی تشکیل ہوئی تھی، جس میں پاکستان، ترکیہ اور انڈونیشیا سمیت دیگر ممالک شامل تھے۔ اس گروپ نے غزہ کے لیے امن منصوبے کی تیاری میں بھی کردار ادا کیا تھا۔
اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر پر مشتمل علاقائی چار ملکی گروپ کا اجلاس بھی ہوا، جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ اسلامی تعاون تنظیم کے کشمیر اور افغانستان سے متعلق رابطہ گروپوں کے اجلاسوں میں بھی انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مصنوعی ذہانت سے متعلق اجلاس میں بھی پاکستان نے شرکت کی، جہاں رکن ممالک کو اپنے خیالات اور مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ پاکستان، ترکیہ اور دیگر متعلقہ ممالک کے درمیان بھی اس حوالے سے مشاورت کی گئی۔
وباؤں اور عالمی صحت سے متعلق اجلاس
اسحاق ڈار نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آخری روز انہوں نے وباؤں کی روک تھام، تیاری اور ردعمل سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کی۔ کورونا وبا کے بعد یہ اہم عالمی فورم اس بات پر توجہ مرکوز کرتا ہے کہ مستقبل میں وباؤں اور دیگر عالمی بحرانوں سے دنیا متحد ہوکر کس طرح نمٹ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جی 77 کے اجلاس میں بھی پاکستان نے شرکت کی، جبکہ ایشیا تعاون مکالمہ کے وزرائے خارجہ کی غیر رسمی ملاقات کی صدارت پاکستان نے کی۔ پاکستان اس وقت ایشیا تعاون مکالمہ کا چیئرمین ہے اور نومبر میں اس فورم کا اجلاس پاکستان میں ہوگا۔
فلسطین کے 2 ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ
نائب وزیراعظم کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان کے عشائیے میں بھی شرکت کی گئی، جبکہ فلسطین کے 2 ریاستی حل سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پاکستان نے بھرپور نمائندگی کی۔ اجلاس کی میزبانی فرانس، برطانیہ اور کینیڈا سمیت دیگر ممالک نے کی، جبکہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، برطانوی وزیراعظم اور کینیڈین وزیراعظم بھی شریک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اس اجلاس کا شریک میزبان تھا اور اجلاس میں پاکستان نے فلسطین کے حوالے سے اپنے دیرینہ مؤقف اور سفارتی کوششوں کو واضح کیا۔ پاکستان 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست اور مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانے کی حمایت کرتا ہے۔
عرب لیگ کے اجلاس میں بھی پاکستان کی شرکت
اسحاق ڈار نے بتایا کہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھی پاکستان کو مدعو کیا گیا تھا۔ اجلاس میں یروشلم اور مسلمانوں اور مسیحیوں کے مقدس مقامات کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو عمان میں ہونے والے اجلاس میں بھی پاکستان نے شرکت کی تھی اور اس کے تسلسل میں نیویارک میں ہونے والی ملاقات میں آئندہ اقدامات پر مشاورت کی گئی۔
28 دوطرفہ ملاقاتیں، متعدد ممالک سے رابطے
نائب وزیراعظم نے کہا کہ 5 روزہ دورے کے دوران ان کی 28 دوطرفہ ملاقاتیں ہوئیں۔ یورپی یونین کی نائب صدر اور خارجہ امور کی اعلیٰ نمائندہ کے ساتھ ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے اسٹریٹیجک مذاکرات سمیت باہمی تعلقات پر بات چیت ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ فرانس، جرمنی، جاپان، جنوبی کوریا اور ایران کے وزرائے خارجہ سمیت متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ جاپان کے وزیر خارجہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے رابطے میں رہے تھے۔
اسحاق ڈار کے مطابق مصر، کویت، بحرین، الجزائر، لیبیا، اردن، آسٹریا، کروشیا، ہنگری، بلغاریہ، آذربائیجان، کرغزستان، سنگاپور، مالدیپ، نیپال، گوئٹے مالا، بنین، انٹیگوا اینڈ باربوڈا اور ریاست فلسطین کے مستقل نمائندے سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کے صدر محمود عباس کو اس سال امریکا کی جانب سے ویزا نہ ملنے کے باعث وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت نہیں کرسکے، اس لیے نیویارک میں فلسطین کے مستقل نمائندے نے ان کی نمائندگی کی اور ان سے بھی ملاقات ہوئی۔
3 معاہدوں پر دستخط
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ ہونے والی ملاقات ان کی 28ویں دوطرفہ ملاقات تھی۔ دورہ نیویارک کے دوران پاکستان نے گوئٹے مالا، مالدیپ اور بنین کے ساتھ بھی مختلف معاہدوں پر دستخط کیے، جن میں دوطرفہ سیاسی مشاورت سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔
اسلام آباد مفاہمت سے معاشی فوائد کی توقع
اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمت پر عملدرآمد سے پاکستان کو سالانہ 10 سے 12 ارب ڈالر مل سکتے ہیں، جبکہ مفاہمت کی یادداشتوں کے تحت 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان کی ترقی، مجموعی قومی پیداوار اور فی کس آمدنی پر بڑا اثر ڈال سکتی ہے، جبکہ اس سے غربت میں کمی اور معاشی ترقی تیز ہوسکتی ہے۔
وزیر خارجہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمت پر قائم ہیں اور اب بات اس پر عملدرآمد کی ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمت پر دونوں جانب سے ہونے والی خلاف ورزیوں نے عملدرآمد کو منجمد کردیا تھا۔
صومالیہ میں پاکستانی عملے کی رہائی
صومالیہ میں پاکستانی عملے کے معاملے پر نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی عملے کی رہائی کے لیے پاکستان نے عالمی میری ٹائم آرگنائزیشن سے رابطہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اغوا کاروں کو تاوان دے کر رہا کرنا درست نہیں۔ صومالیہ میں کارروائی کے بعد جہاز رہا ہوگیا اور پاکستانی عملے کے افراد بھی آزاد ہوگئے۔
اسحاق ڈار کے مطابق صومالیہ میں جہاز کی رہائی کے دوران 5 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 3 پاکستانی شامل ہیں، جبکہ 3 پاکستانی شہری جاں بحق اور 4 زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو وہاں سے باہر نکال لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے، اس کے لیے کسی کریڈٹ یا شاباش کی ضرورت نہیں۔
افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے
افغانستان کے معاملے پر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان افغانستان کا خیرخواہ ہے اور افغانستان میں امن و استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے لیے عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ 11 سال پہلے بھی کوششیں کی تھیں۔ ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کے درمیان ریلوے رابطہ کراچی تک قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
وزیر خارجہ کے مطابق افغانستان کے ساتھ معاشی، تجارتی، سیاسی اور مہاجرین سمیت متعدد امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔
افغانستان سے قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے واضح کہا ہے کہ اس کی سرزمین کسی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے سب سے اہم مطالبہ اپنی سرزمین پر پاکستان مخالف دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ افغانستان کو ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت پاکستان مخالف عناصر کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ صرف زبانی یقین دہانیاں کافی نہیں، افغانستان کو قابلِ تصدیق اقدامات دکھانا ہوں گے۔ پاکستانی جوانوں اور افسران کی شہادتوں کے بعد محض بات چیت سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی ضمانت دے۔
سرحد بند ہونے کے باوجود افغانستان کے لیے امداد
اسحاق ڈار نے کہا کہ سرحد بند ہونے کے باوجود پاکستان نے انسانی بنیادوں پر افغانستان کے لیے 1 ہزار کنٹینرز کی اجازت دی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انسانی بنیادوں پر افغانستان کو امدادی اور ضروری سامان کی ترسیل کی اجازت دی، جبکہ پاکستانی معیشت کو نقصان کے باوجود انسانی بنیادوں پر افغانستان کی مدد کی گئی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ تجارت اور معاشی نقصان اپنی جگہ، پاکستان کے لیے پہلے انسانی جانوں کا تحفظ اور دہشت گردی کا خاتمہ اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنے بہادر جوانوں اور افسران کے جنازے اٹھانا قبول نہیں، دہشت گردی کا خاتمہ ہماری ذمہ داری ہے۔














