ن لیگ والے سوچ رہے ہیں کیوں نا جنرل الیکشن کا اعلان کر دیں، پرویز الہی

منگل 7 مارچ 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تحریک انصاف کے صدر چودھری پرویز الہی نے کہا ہے کہ ن لیگ والے سوچ رہے ہیں کیوں نا جنرل الیکشن کا اعلان کر دیں۔ مریم بی بی ناکام ہوئی ہے ، جب وہ عمران خان کے خلاف بات کرتی ہے تو عمران خان کا گراف اوپر چلا جاتا ہے۔

تحریک انصاف میں شامل ہونے والے احسان الحق نولاٹیہ کے ہمراہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے صدر چودھری پرویز الہی نے کہا کہ آج پی ٹی آئی اور ہم سب کے لیے بڑا خوشی کا دن ہے کہ آج یہ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں ۔ آج یہ ابتدا ہے ، میرا ٹارگٹ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے لوگ ہیں ۔ احسان الحق نولاٹھیا 22 سال تک مسلسل پیپلز پارٹی کا حصہ رہے ہیں ، 3مرتبہ ایم پی اے رہے ہیں ۔

چودھری پرویز الہی نے کہا کہ آج کل منظم طریقے سے مہم چلائی جارہی ہے جس کا ہدف عمران خان ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر عمران خان اور تحریک انصاف پر نئے مقدمے چلائے جا رہے ہیں ۔ ایک نئی بات آئی ہے کہ شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری کے خلاف پریس کانفرنس کرنے پر ایف آئی آر کاٹ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کو توشہ خانہ اور نیب سے کچھ نہیں ملا تو ایک نیا طریقہ اپنایا گیا ہے کہ درجنوں کی تعداد میں ایف آئی آر کاٹ دی جائیں۔

چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت نے تاریخ کی بد ترین مہنگائی مسلط کی ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں ، بے روزگاری پھیل رہی ہے، اس معاشی تباہی سے نظریں ہٹانے کے لیے ایک منظم مہم چلائی گئی ہے۔

رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ چار ماہ پہلے تک عمران خان کو جس عدالت نے بھی بلایا ، وہ جاتے رہے ہیں ۔ عمران خان کی جدو جہد ہی قانون کے احترام کی ہے۔ عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جس دن آئے ہیں اس دن سے رونق لگ گئی ہے۔ توشہ خانہ مزاحیہ کیس ہے، عمران خان اس کیس کو لائیو چلوانا چاہتے ہیں۔

پرویز الہی نے کہا کہ پہلے بھی عمران خان کی تقریر پر پیمرا پابندی لگا چکی ہے، عمران خان کی ٹی وی پر تقریر نشر کرنے پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں ۔ چار ماہ پہلے تک عمران خان کو جس عدالت نے بھی بلایا وہ جاتے رہے ہیں ۔ تین نومبر کو عمران خان پر منظم قاتلانہ حملہ ہوا ہے ۔ عمران خان نے اپنے اوپر حملے کا ذکر بھی کیا تھا ، بتایا تھا کہ ان پر قاتلانہ حملے کی سازش ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جتنی عزت دی وہ شاید کسی نے نہیں دی ۔ نواز شریف کوئی لیڈر تو نہیں ، نواز شریف ڈنگ ٹپائو ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ن لیگ والے سوچ رہے ہیں کیوں نا جنرل الیکشن کا اعلان کر دیں ۔ آنے والے انتخابی نتائج  کے خوف سے یہ مرے جا رہے ہیں ۔ مریم بی بی ناکام ہوئی ہے۔ جب وہ عمران خان کے خلاف بات کرتی ہے ، عمران خان کا گراف اوپر چلا جاتا ہے۔

چودھری پرویز الہی نے کہا کہ میں نے جتنا جنون تحریک انصاف کے کارکنا ن میں دیکھا ہے، کسی اور میں نہیں دیکھا ۔ پارٹی لیڈر شپ کے ساتھ والہانہ محبت جس طرح ذوالفقارعلی بھٹو کے زمانے میں ہوتی تھی اس سے ڈبل پی ٹی آئی کارکنان میں اپنی لیڈر شپ کے لیے عقیدت ہے۔

صدر پی ٹی آئی نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے مجھے کیا دیا ہے ، جو کچھ دیا ہے اللہ نے دیا ہے ۔ اللہ نے مجھے عہدہ دیا ہے ، اس کے بعد عمران خان نے عہدہ دیا ہے۔ یہ اسٹیبلشمنٹ والے ہمیں کیا دے رہے ہیں ۔ محمد خان بھٹی کا برا حال کر رہے ہیں ، آدھی روٹی اس کو دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے پیغام دیا گیا کہ آپ نواز شریف، شہباز شریف کو جوائن کریں۔ میں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ میں نے ان کو کہا کہ آپ جس وقت بستہ لے کے  اسکول میں پڑھتے تھے، میں اس وقت سے نواز شریف ، شہباز شریف کو جانتا ہوں ۔ مجھے پتہ ہے یہ کیسے لوگ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر داخلہ کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، اہم قومی و علاقائی امور زیر بحث

پیپلز پارٹی پر سودے بازی کے الزامات بے بنیاد، بجٹ بغیر آئینی ترمیم کے منظور ہوگا، عبدالقادر پٹیل

سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف سماعت کے لیے بڑا بینچ ضروری نہیں، وفاقی آئینی عدالت

سعودی عرب میں نایاب ریم غزال کی جنگلی ماحول میں افزائشِ نسل دوبارہ شروع

پاکستان کی کامیاب سفارتکاری دنیا بھر میں تسلیم، مسئلہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے، رانا قاسم نون

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ایران امریکا فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے ہو گا؟

کالم / تجزیہ

امن معاہدہ اور پاکستان

پنجاب کا حق، ایتھے رکھ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ