مشرق وسطیٰ کشیدگی کے ذمہ دار اسرائیلی وزیراعظم ہیں، طیب اردوان

جمعرات 18 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کشیدگی میں حالیہ اضافے کے ذمہ دار اسرائیلی وزیراعظم ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا کہ طیب اردوان نے ایک بیان میں کہا کہ مغربی ممالک کا اسرائیلی حملے کو بھول کر صرف ایرانی حملے کی مذمت کرناقابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ دمشق میں ایرانی سفارتخانے پر حملہ کرکے اسرائیل نے عالمی قانون اور ویاناکنونشن کی خلاف ورزی کی، اسرائیل کی جارحیت پرخاموش رہنے والے ایرانی حملے کی مذمت میں آگے آگے ہیں۔طیب اردوان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کشیدگی میں حالیہ اضافے کے ذمہ دار اسرائیلی وزیراعظم ہیں۔

دوسری جانب امریکی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ امریکا ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے، یہ بات غلط ہے کہ ایران نے اسرائیل پر حملے کی وارننگ پہلے دی تھی، ایران سے حملے کا پیغام ملا تھا لیکن کوئی وقت، ہدف یا ردعمل کی نوعیت شامل نہیں تھی۔

جان کربی نےکہا کہ ایران کی واضح نیت بہت زیادہ تباہی کی تھی، اسرائیل آج بہت مضبوط اسٹریٹجک پوزیشن میں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اداکارہ مومنہ اقبال ہراسگی کیس: این سی سی آئی اے نے لیگی رکن اسمبلی کو اہلیہ سمیت طلب کرلیا

اسرائیل کی جانب سے غزہ کے مسلمانوں پر ادائیگی حج اور قربانی کرنے پر پابندی عائد

اویس لغاری سے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے وفد کی ملاقات، سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار

گوگل نے اسمارٹ عینکیں متعارف کرا دیں، جیمنائی بھی اپڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف سے چینی وفد کی ملاقات، پاک چین دوستی کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

ویڈیو

ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد خطے میں کسی نئی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں: سینیٹر مشاہد حسین سید

عوام میں بجٹ ریلیف کی امیدیں بڑھ گئیں، سہیل آفریدی نے دھرنے کا راستہ کیوں بدلا؟

پاک چین دوستی علاقائی امن، ترقی اور عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈارکا قومی اسمبلی میں خطاب

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا