کثیر الجماعتی کانفرنس کا ڈیجیٹل مردم شماری پر تحفظات کا اظہار

اتوار 19 مارچ 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک بھر میں جاری مردم شماری پر منعقدہ کثیر الجماعتی کانفرنس نے سندھ میں مقیم غیر ملکی تارکین وطن کو علیحدہ سے شمار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کراچی میں منعقدہ اس کانفرنس نے حکومت سے تقاضا کیا ہے کہ مردم شماری کا مقررہ وقت بھی بڑھایا جائے اور خانہ شماری کے بعد ہر گھر کے سربراہ کو اندراج کی رسید بھی فراہم کی جائے۔

کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کثیر الجماعتی کانفرنس کے صدر اور سینیٹر نثار کھوڑو نے بتایا کہ ملک بھر میں جاری ڈیجیٹل مردم شماری کے دوران ایک گھرانے کا فارم بھرنےمیں لگ بھگ آدھا گھنٹہ صرف ہورہا ہے لہذا اتنی کم مدت میں ملک بھر کے  تمام گھرانوں کا شمار انتہائی دشوار کام بن جائے گا۔

نثار کھوڑو کے مطابق مردم شماری کے عملہ کو فراہم کردہ ٹیبلیٹ کے ساتھ ساتھ متعلقہ ایپلیکیشن میں بھی خرابی ہے۔

گزشتہ انتخابات کے دوران رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (RTS) کے تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس خدشہ کا بھی اظہار کیا کہ یہ ڈیجیٹل مردم شماری آر ٹی ایس کی طرح ثابت ہوسکتی ہے۔

’اس لیے مردم شماری کے مقررہ وقت میں اضافہ کیا جائے۔ خانہ شمار ی کے بعد ان گھرانوں کو رسید فراہم کی جائے اور اس ڈیجیٹل مردم شماری کا ڈیٹا سندھ کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے۔‘

پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ میں مقیم غیرملکی تارکین وطن کے لیے مردم شماری کے فارم میں علیحدہ  خانہ رکھتے ہوئے انہیں غیرملکی تارکین وطن کے طور پر شمار کیا جائے تاکہ صوبہ بھر میں ان کی صحیح تعداد کا علم ہوسکے۔

نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ دو صوبوں میں پرانی مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات کا انعقاد جب کہ باقی ملک میں نئی مردم شماری پر انتخابات نئے تنازعہ کو جنم دینے کا باعث بنے گا۔ ان کے مطابق کانفرنس میں شریک جماعتوں نے نئی مردم شماری مکمل ہونے کے بعد ملک میں ایک ساتھ نئے انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔

نثار کھوڑو نے بتایا کہ کانفرنس نے وزیراعلیٰ سندھ سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملہ پر وفاق سے مذاکرات کے ذریعہ صوبہ کے خدشات دور کروائیں ۔

’اگر سندھ میں مردم شماری سے متعلق تمام خدشات دور نہیں کیے گئے تو سندھ مردم شماری کے نتائج قبول نہیں کرے گا۔‘

پاکستان میں ہونے والی پہلی ڈیجیٹل اور ساتویں قومی مردم شماری پر منعقدہ اس مختلف الخیال جماعتوں پر مشتمل اس کانفرنس میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سمیت سندھی قوم پرست جماعتوں نے بھی شرکت کی۔

ایم کیو ایم پاکستان نے اس کانفرنس میں شرکت نہیں کی جب کہ مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، سندھ ترقی پسند پارٹی اور عوامی جمہوری پارٹی کے رہنماؤں نے اس میں حصہ لیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آپریشن سندور کے بعد بھارتی روپیہ پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد گر گیا

عالمی توانائی نظام میں تبدیلی، پاکستان کو مؤثر حکمت عملی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک

اہم پیش رفت، پودینے کے تیل سے دل کے امراض کے خطرات میں کمی ممکن

’کاکروچ جنتا پارٹی‘، بھارتی چیف جسٹس کے ریمارکس پر سیاسی تحریک چل پڑی

بنگلہ دیشی کلین سوئپ، پاکستان کی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ رینکنگ بری طرح متاثر

ویڈیو

مجھے ستارہ امتیاز کسی مخصوص شوٹ پر نہیں مجموعی کام کے اعتراف میں ملا، عرفان احسن کا ’حاسدین‘ کو جواب

خیبر پختونخوا: پی ٹی آئی کے 13 سالہ اقتدار کے بارے میں لوگوں کی رائے کیا ہے؟

انمول پنکی نے کن شخصیات کے خلاف بیانات دیے؟ وکیل نے ملاقات کی تفصیلات بتا دیں

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا