باپ پارٹی کے صدر نوابزادہ خالد مگسی حملے میں بال بال بچ گئے

جمعرات 30 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جھل مگسی سے کوئٹہ آتے وقت نوتال کے قریب باپ پارٹی کے مرکزی صدر اور ایم این اے نوابزادہ خالد مگسی کی گاڑی پر ڈاکوؤں نے فائرنگ ہوئی تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔

پولیس کے مطابق بختیار آباد اور نوتال کے درمیان ڈاکوؤں نے مسافروں کو لوٹنے کی کوشش کی اور اسی دوران نوابزادہ خالد مگسی کی گاڑی پر بھی فائرنگ ہوئی لیکن ان کے باڈی گارڈز کی جوابی فائرنگ سے ڈاکو وہاں سے فرار ہوگئے۔

ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوابزادہ خالد مگسی کی گاڑی کا سائیڈ شیشہ ٹوٹ گیا تاہم وہ محفوظ رہے۔

بختیار آباد اور نوتال کے درمیان جمعرات کے روز ڈاکوؤں کی فائرنگ کا ایک گھنٹے کے اندر  یہ تیسرا واقعہ تھا۔ اس سے قبل 2 مسافر ویگنوں کو لوٹا گیا۔

دریں اثنا سابق چیئرمین صادق سنجرانی نے بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر خالد مگسی پر حملے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے خالد مگسی سے فون پر رابطہ کرکے ان کی خیریت بھی دریافت کی۔

صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ وہ حملہ سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ حملے میں ملوث عناصر کو فی الفور گرفتار  کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان