آزاد کشمیر ہائیکورٹ: آثار قدیمہ کے اردگرد 200 فٹ کی حدود میں ہر قسم کی مداخلت پر پابندی عائد

پیر 24 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر ہائیکورٹ نے آثار قدیمہ کے اردگرد 200 فٹ کی حدود میں ہر قسم کی مداخلت پر پابندی عائد کردی۔

عدالت نے سول سوسائٹی ممبران شاہد زمان اور دیگر کی رٹ پٹیشن سماعت کے لیے منظور کرلی، جس کی پیروی ایڈووکیٹ ذوالقرنین نقوی نے کی۔

ہائیکورٹ کے جج جسٹس شاہد بہار کی سربراہی میں قائم بینچ نے ڈویژنل کمشنر اور محکمہ آثار قدیمہ کو نوٹسز جاری کر دیے۔

عدالت عالیہ نے حکم دیا ہے کہ تمام متعلقین 17 جولائی تک اپنی معروضات عدالت کے روبرو پیش کریں۔

پٹیشنرز نے عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں موجود آثار قدیمہ پر بعض لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔

پٹیشن کے مطابق 1968 کے Antiquity Act کے مطابق ہر تاریخی عمارت کے 200 فٹ کی حدود میں کسی نوع کی تعمیرات نہیں کی جاسکتیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ماؤ زے تنگ سے متعلق مبینہ مذاق، چین میں ایمباپے کی اسپانسرشپ ختم

اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان، انڈیکس میں 950 پوائنٹس سے زائد اضافہ

’اب تو عادی ہو چکا ہوں‘، ندا یاسر کی وائرل میمز پر یاسر نواز کا دلچسپ ردعمل

آن لائن بائیک رائیڈ کے دوران مبینہ ہراسانی، خاتون نے چلتی موٹر سائیکل سے چھلانگ لگا دی

اسٹار ٹریک میں پاول چیخوف کا کردار ادا کرنے والے والٹر کوئنیگ چل بسے

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں