وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں تبدیلی کے امکان کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ حکومت یکطرفہ طور پر آئی پی پیز سے معاہدے ختم کرکے ریکوڈک کی طرح 900 ملین ڈالر کے جرمانے ادا نہیں کرسکتی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی پی پیز کو ادا کی جانے والی رقم پاکستان کے دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ کیسے ہوئی؟
بجلی کی قیمتوں میں کمی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس حوالے سے اقدامات کررہی ہے، آئی پی پیز سے کیپیسٹی ادائیگیوں بارے مذاکرات کیے جاسکتے ہیں۔
اویس لغاری نے کہا کہ امریکی ڈالر اگر 2015ء کے ریٹ پر رہتا تو کیپیسٹی ادائیگیاں 2100 ارب روپے کے بجائے 800 ارب روپے ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ دورہ چین میں توانائی شعبے میں چینی قرضے کی ری پروفائلنگ کے لیے بات ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چینی پاور پلانٹس کو مقامی کوئلے پر منتقل کرنے سے متعلق بھی بات چیت ہوئی ہے، ایسا کرنے سے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں ڈھائی روپے کمی آسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی پی پیز کو 10 سال میں کتنے ارب روپے ادا کیے گئے؟
وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ توانائی شعبے میں بلند شرح سود پر ساڑھے 8 ارب ڈالر کے قرضے لیے گئے ہیں جن کی ری پروفائلنگ کرنا چاہتے ہیں، قرضوں کی ری پروفائلنگ سے جتنا فائدہ ملا وہ صارفین کو پہنچائیں گے۔
اویس لغاری نے مزید کہا کہ جامشورو پاور پلانٹ کو حکومت خود مقامی کوئلے پر منتقل کررہی ہے۔ انہوں نے کہا سولر نیٹ میٹرنگ کے منصوبے جو پہلے لگ چکے ہیں ان کے ساتھ حکومت کے 7، 7 سال کے معاہدے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سولر پینل اتنا ہی سستا رہا تو نیٹ میٹرنگ کے آئندہ منصوبوں میں نرخوں پر اس طرح نظرثانی کریں گے کہ ان کے پیسے 3 سے 4 سال میں پورے ہوسکیں۔













