عمران خان کی عدالت سے جیل میں ورزش کے لیے ڈمبلز کی فراہمی کی استدعا

جمعہ 23 اگست 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے القادر یونیورسٹی ریفرنس کی سماعت کے دوران وکیل کے ذریعے 2 مختلف درخواستیں جمع کروائیں، اڈیالہ جیل انتظامیہ نے عمران خان کی دونوں مطالبات کو جیل مینوئل کے خلاف قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے لیے ورزش والی سائیکل جیل پہنچ گئی: ’عام قیدی کو دوسری مرتبہ سالن نہیں ملتا‘

جمعہ کو بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے وکیل خالد یوسف چوہدری کے ذریعے عدالت میں پہلی درخواست جمع کرائی کہ انہیں جیل میں ورزش کے لیے ڈمبلز کی ایک جوڑی فراہم کی جائے جب کہ دوسری درخواست میں استدعا کی کہ انہیں بینک اسٹیٹمنٹ کے لیے درکار دستاویزات پر دستخط کی اجازت فراہم کی جائے۔

عدالت نے دونوں درخواست وصول کرنے کے بعد جیل حکام کو ہدایت کی کہ وہ دونوں درخواستوں کو جیل مینوئل کے مطابق نمٹائیں۔

مزید پڑھیں:عمران خان آج کل جیل میں کون سی کتابوں کا مطالعہ کر رہے ہیں؟

تاہم جیل حکام نے ان دونوں درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ورزش کے لیے ڈمبلز فراہم کرنا جیل مینوئل کے خلاف ہے۔جیل حکام نے بینک اسٹیٹمنٹ کی درخواست سے متعلق دستاویزات کو بھی روک دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لاہور: سہیل آفریدی خود پولیس وین میں بیٹھ گئے، پی ٹی آئی کے اغوا کے دعوے پر عوام کی شدید تنقید

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، لڑکیوں کی تعلیم کے لیے محفوظ اسکول کیوں اہم ہیں؟

اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کی گئی تو نقصان کی ذمے داری احتجاج کرنے والوں پر ہوگی، طارق فضل چوہدری

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کے والد انتقال کرگئے، وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار افسوس

انتشار کی سیاست کو پذیرائی نہ ملی تو مذہبی جذبات کا سہارا، سیاسی کمزوری کو عقیدت کا رنگ دینے سے حقائق نہیں بدلتے

ویڈیو

پاکستان میں ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا میلہ، دنیا بھر سے ممتاز آئی ٹی ماہرین کی شرکت

کیا 27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کے لیے خطرہ ہے، صحافیوں کو بلوچستان کیوں بلایا گیا؟

اداکاری جمال شاہ کی وجہ سے چھوڑی، میرے پاس تشدد کے ثبوت موجود ہیں، فریال گوہر

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘