باکسر عامر خان پر 2سال کے لیے ہر قسم کا کھیل کھیلنے پر پابندی

منگل 4 اپریل 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اینٹی ڈوپنگ ٹیسٹ میں ممنوعہ ادویات کی موجودگی کا انکشاف ہونے پر عامر خان پر 2سال کی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ پابندی کا اطلاق 6 اپریل 2022 سے 5 اپریل 2024 تک ہوگا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق سابق لائٹ ویٹر ورلڈ چیمپیئن عامر خان نے آسٹرائن کے استعمال کا تجربہ کیا۔
باکسر عامر خان نے فروری 2022 میں کیل بروک کے خلاف کھیلے جانے والے میچ کے دوران ممنوعہ ادویات کا استعمال کیا تھا۔

مئی میں اپنی ریٹائرمنٹ کے موقع پر باکسر عامر خان نے اس بات کا انکشاف خود کیا کہ انہوں نے اینٹی ڈوپنگ قانون کو توڑا ہے لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے یہ قانون جان بوجھ کر نہیں توڑا۔ تاہم آزاد خود مختار ٹریبیونل نے 36 سالہ عامر خان کی یہ دلیل مسترد کر دی تھی۔

یو کے اینٹی ڈوپنگ (یو کیڈ) کے مطابق اوسٹارائن ایک ایسی دوا ہے جو ٹیسٹوسٹیرون سے ملتے جلتے اثرات مرتب کرتی ہے۔

چیف ایگزیکیٹیو یو کے اینٹی ڈوپنگ جین رمبل نے کہا یہ کیس ایک یاددہانی ہے کہ یوکیڈ  کھیل کو صاف شفاف بنانے کے لیے کسی کو بھی اینٹی ڈوپنگ رولز کی خلاف ورزی نہیں کرنے دے گا۔ ان سخت ذمہ داریوں کا مطلب ہے کہ کھلاڑی جو بھی ممنوعہ چیزکھائیں گے، وہ اس کے ذمہ دار ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک بھارت میچ سے قبل بابر اعظم کا جونیئر کھلاڑیوں کو اہم مشورہ

اپوزیشن احتجاج جاری، اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، تحریک تحفظ آئین کا الزام

ایپسٹین اسکینڈل کی گونج برطانیہ تک، سابق سفیر مینڈلسن سے جواب طلب

آلو کے کاشتکاروں کے لیے خوشخبری: مریم نواز کا وزیراعظم شہباز شریف کو برآمدات بڑھانے کے لیے خط

گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی یونٹ فعال، خصوصی تھانہ قائم

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟