پاک چین سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بیجنگ میں کانفرنس، مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

جمعہ 27 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور چین کے درمیان سرمایہ کاری تعاون کو فروغ دینے کی جاری کوششوں کے تناظر میں بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے نے بزنس اینڈ انویسٹمنٹ گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے میں وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان کی زیرصدارت گول میز کانفرنس میں 3 درجن سے زائد چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: پاک چین اقتصادی راہداری پاکستانی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کیوں؟

گول میز کانفرنس کا مقصد ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، لاجسٹکس، تعمیرات، توانائی، زراعت اور دواسازی کے شعبوں میں چینی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع، مراعات اور سہولتوں کو اجاگر کرنا تھا۔

گول میز کانفرنس میں چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے اپنے استقبالیہ کلمات میں پاکستان اور چین کے کاروباری افراد کے درمیان کاروباری شراکت کی بڑھتی ہوئی رفتار پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے پاکستان اور چین کے کاروباری اداروں کے درمیان دوطرفہ تعاون میں اضافے پر بھی روشنی ڈالی، خلیل ہاشمی نے شینزین، بیجنگ، کراچی اور ژیان میں ہونے والے کامیاب بزنس ٹو بزنس اجلاسوں کا ذکر کیا جن میں میلوں، نمائشوں اور کانفرنسوں میں شرکت شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک چین تعلقات اور سی پیک منصوبوں کی تکمیل کے لیے کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائیگا، سیاسی جماعتوں کی یقین دہانی

اس موقع پر سرمایہ کاری بورڈ کے وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے پاکستان اور چین کے کی آہنی دوستی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جون 2024 میں وزیر اعظم پاکستان کے دورہ چین کے بعد سے چین پاکستان بزنس ٹو بزنس اور سرمایہ کاری تعاون کو تیز کرنے میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔

’چینی کاروباری اداروں کو پاکستان میں ہاؤسنگ، توانائی، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس میں سرمایہ کاری کی دعوت‘

وفاقی وزیرعبدالعلیم خان نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح سی پیک پاک چین اقتصادی تعاون کا سنگ بنیاد ہے اور اس بات پر زور دیا کہ سی پیک کے اگلے مرحلے میں صنعت کاری، خاص طور پر بی ٹو بی کے فروغ، ایس ای زیڈز، ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز (ای پی زیڈز) اور گوادر فری زون کی ترقی مشترکہ ترجیح ہوگی۔

وفاقی وزیر نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے فوائد پر بھی روشنی ڈالی، جن میں ہنر مند آئی ٹی فورس، مسابقتی اجرت کی شرح، صارفین کی طلب اور چینی کمپنیوں کے لیے پرکشش مراعات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاک چین نئے فضائی مال بردار روٹ کا آغاز، پہلا جہاز گوئی یانگ سے کراچی پہنچ گیا

عبدالعلیم خان نے چینی کاروباری اداروں کو پاکستان میں ہاؤسنگ، توانائی، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے ہاؤسنگ یونٹس سے وابستہ صنعتوں اور ہاؤسنگ فنانس کی بڑی مانگ پر زور دیا جس سے چینی کمپنیاں اور سرمایہ کار بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے گول میز کانفرنس کے انعقاد پر سفیر خلیل ہاشمی اور سفارتخانے کی ٹیم کی تعریف کی، انہوں نے کمپنیوں کو آئندہ 6 ماہ میں آنے والے سرمایہ کاری روڈ شوز کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور انہیں شرکت اس اہم روڈ شوز میں شرکت کی دعوت دی۔

ڈیمنگ شہر کے میئر لی شوانگ، صوبہ شانڈونگ کے لینی شہر کے ڈپٹی میئر کیو زونگکوان، چائنا سوسائٹی فار فیوچر اسٹڈیز کے چیف ایڈوائزر کین لین ژینگ اور کاروباری اداروں کے نمائندوں نے سفارتخانے کی منفرد کوشش کو سراہا اور بزنس ٹو بزنس تعاون کو بہت مفید قرار دیا۔ اس موقع پر چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان 3 مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خضدار: رشتے سے انکار پر خاندان کے 3 افراد قتل، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رپورٹ طلب کرلی

تین گنا قیمت، جعلی اور ایکسپائر اشیا، سلمیٰ بٹ کا موٹروے ریسٹ ایریاز پر موجود مارٹس کے خلاف سخت ایکشن

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ