50 سال سے متروک ٹریکنگ روٹ کے احیا کے لیے چترال سے گلگت کا پیدل سفر

بدھ 2 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے شمالی علاقے چترال اور گلگت بلتستان اپنی تاریخی، ثقافتی اور نسلی وابستگی کی بدولت صدیوں سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

یہاں کے بلند و بالا پہاڑ، شفاف دریا، شور مچاتی ندیاں اور قیمتی نباتات ان علاقوں کو قدرت کا ایک حسین شاہکار بناتے ہیں۔ یہ وادیاں نہ صرف اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہیں بلکہ یہاں موجود ٹریکنگ کے مشہور راستے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہیں۔ یہ حسین مناظر ہر آنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں اور ایک ناقابل فراموش تجربہ فراہم کرتے ہیں۔

گلگت اور چترال کے درمیان کئی پہاڑی درے اور راستے ہیں جو قدیم زمانے سے دونوں علاقوں کو جوڑتے چلے آرہے ہیں۔ ان میں سے ایک مشہور راستہ بروغیل سے ہوتا ہوا کرامبر وادی اور وہاں سے گاہکوچ تک پہنچتا ہے۔

دوسرا راستہ بروغیل سے درکھوت تک جاتا ہے، جو یاسین کا آخری گاؤں ہے۔ تیسرا راستہ گازین سے تھوئی پاس عبور کرکے طاوس تک پہنچتا ہے جو کہ یاسین کا مرکزی مقام ہے۔

یہاں کے بلند و بالا پہاڑ، شفاف دریا، شور مچاتی ندیاں اور قیمتی نباتات ان علاقوں کو قدرت کا ایک حسین شاہکار بناتے ہیں

ایک اور اہم راستہ چپاڑی سے چومورکھون پاس عبور کرکے برسیت گاؤں تک جاتا ہے، جہاں سے میں برسیت پہنچا۔ ایک اور مشہور راستہ شندور سے برسیت اور آگے گوپیز تک جاتا ہے۔

ماضی میں، جب جدید سفری سہولیات میسر نہیں تھیں تو یہاں کے لوگ ان دشوار گزار پہاڑی راستوں پر پیدل یا گھوڑوں پر سفر کرتے تھے۔ اس قدیم طریقہ سفر نے نہ صرف ان کی معاشرتی اور ثقافتی زندگی کو گہرے روابط میں باندھ رکھا تھا بلکہ مہمان نوازی اور بھائی چارے کو بھی فروغ دیا تھا۔ پیدل سفر کے ذریعے لوگوں کا آپس میں میل جول بڑھتا اور ایک منفرد تجربہ حاصل ہوتا، جو آج کی مشینی زندگی میں ناپید ہوچکا ہے۔

چترال سے گلگت کا قدیم راستہ تاریخی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ 12ویں عیسوی میں تاج مغل اور ان کی فوج نے اسی راستے سے گلگت سے چترال کا سفر کیا۔ چترال کے کٹور اور خوشوقت حکمرانوں نے بھی فوجی مہمات کے لیے اسی راستے کو اپنایا۔ برطانوی دور میں بھی یہ راستہ فوجی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا رہا۔

ماضی میں پیدل سفر کے ذریعے لوگوں کا آپس میں میل جول بڑھتا اور ایک منفرد تجربہ حاصل ہوتا

یہ پورا راستہ تقریباً 320 کلومیٹر پر محیط ہے، جسے پیدل طے کرنے میں مجھے 8 دن لگے۔ اس سفر کے دوران آج بھی کئی تاریخی نشانات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ شیر قلعہ، سنگوڑ، گاہکوچ، گوپیز، پرینگل، برسیت، مستوج اور بونی جیسے خوبصورت مقامات پر اس زمانے کے تعمیر شدہ ڈاک بنگلے موجود ہیں۔ اگر ان کی مناسب تزئین و آرائش کی جائے تو انہیں بہترین سیاحتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

میری خواہش تھی کہ میں اس تاریخی راستے کو دوبارہ زندہ کروں، لہٰذا 28 اگست کی صبح 5:13 بجے میں نے بونی کے علاقے ٹیک لشٹ سے گلگت کی جانب اپنے پیدل سفر کا آغاز کیا۔ یہ ایک یادگار تجربہ تھا، جس میں نہ صرف قدرتی مناظر کا قریب سے مشاہدہ کیا بلکہ اس راستے کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کا بھی بھرپور ادراک حاصل کیا۔

ماضی کے تاریخی راستے کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے 28 اگست کی صبح اپنے سفر کا آغاز کیا

میری پہلی منزل آوی اور میراگرام نمبر 2 تھی، جس کے بعد میں سنوغر اور پرواک کی دلکش وادیوں سے گزرتا ہوا مستوج کی جانب نکلا۔ اگرچہ یہ سفر آسان نہیں تھا، لیکن ان علاقوں کی خوبصورتی اور مقامی لوگوں کی مہمان نوازی نے میری تھکن کو دُور کردیا۔ ہر گاؤں، ہر وادی اور ہر پہاڑ اپنی ایک الگ کہانی سنا رہا تھا۔ یہاں کے بزرگوں سے گفتگو کے دوران مجھے احساس ہوا کہ یہ راستہ صرف ایک سفری گزرگاہ نہیں بلکہ یہاں کے لوگوں کی تاریخ اور ثقافت کا ایک جیتا جاگتا حصہ ہے۔

تیسرے دن میں نے چومور کھون پاس عبور کیا، جہاں سے آگے کا راستہ نسبتاً آسان اور ہموار تھا۔ راستے میں برسیت، گولوغمولی اور پرینگل جیسے دیہات آئے، جہاں مقامی لوگوں کے ساتھ قیام کرنے کا موقع ملا۔ ہر رات مقامی لوگوں کے گھروں میں گزرتی، جہاں مقامی تاریخ اور ثقافت پر ہونے والی گفتگو میری تھکن کو ختم کردیتی۔

یہ پورا راستہ تقریباً 320 کلومیٹر پر محیط ہے، جسے پیدل طے کرنے میں مجھے 8 دن لگے

8 دن کا یہ سفر میرے لیے جسمانی آزمائش سے کہیں بڑھ کر تھا۔ اس نے مجھے ان علاقوں کی تاریخ اور ثقافت کی گہرائیوں سے روشناس کرایا۔ اس روایتی سفر کو زندہ رکھنا آج کی جدید دنیا میں نہایت ضروری ہے، جہاں ہر چیز مشینی ہوتی جارہی ہے۔

جب میں گلگت پہنچا اور پلٹ کر دیکھا تو ہر قدم مجھے یاد دلاتا رہا کہ یہ سفر محض جسمانی مشقت نہیں تھا، بلکہ ایک تاریخی، ثقافتی اور روحانی تجربہ بھی تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp