اسلام آباد ہائیکورٹ: عافیہ صدیقی کیس، 4 رکنی وفد امریکا جائے گا

جمعہ 1 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے عافیہ صدیقی کی صحتیابی اور وطن واپس لانے سے متعلق ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست پر سماعت کی۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان اور ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے زینب جنجوعہ ایڈوکیٹ کو دونوں پارٹیوں کا فوکل پرسن مقرر کردیا ہے۔ فوزیہ صدیقی اور ڈاکٹرز بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔ 4 ممبر وفد امریکا جائے گا۔ وفد میں سینیٹر طلحہ محمود، فوزیہ صدیقی، انوشے رحمان اور ایک ڈاکٹر شامل ہوگا۔

مزید پڑھیں:ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس: پاکستان کی امریکا کو قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی تجویز

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ امید ہے وفد اگلے 2 ہفتوں تک امریکا کے آفیشنلز کے ساتھ میٹنگ کرے گا، امریکا الیکشنز کے فوراً بعد وفد امریکا جائے گا۔ ڈاکٹر فوزیہ جس ڈاکٹر کو لے کر جانا چاہتی ہیں اس کی ویزا پوزیشن کیا ہے؟ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے بتایا کہ میرے خیال میں ڈاکٹر کے پاس ویزہ ہے۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے اٹارنی جنرل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ویری گڈ اٹارنی جنرل صاحب! آپ معاملے میں انوالو ہوئے۔ عدالت نے کیس کی سماعت نومبر کے آخر تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیلی پارلیمان میں اذان اور نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کا متنازع بل منظور

ایپل کا 2027 تک 5 نئے آئی فون متعارف کرانے کا منصوبہ، چین سے میموری چپس حاصل کرنے کا بھی امکان

باغبانپورہ  اسکول حادثہ : مریم نواز کا فوری نوٹس، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم

سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ،فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز