45 ہزار کلومیٹر طویل دنیا کی تیز رفتار انٹرنیٹ کیبل پاکستان پہنچ گئی

بدھ 25 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری کا شکوہ کرنے والوں کے لیے خوشخبری، دنیا کی تیز رفتار انٹرنیٹ سب میرین کیبل پاکستان تک پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں انٹرنیٹ اب سے چلے گا نہیں دوڑے گا، مگر کیسے؟

میڈیا رپورٹ کے مطابق دنیا کی تیز رفتار انٹرنیٹ کیبل دنیا کے کئی ممالک سے ہوتی بالآخر پاکستان پہنچ گئی ہے۔

تیز رفتار انٹرنیٹ کی حامل اس کیبل کو زیر سمندر پہلے افریقہ اور پھر عمان میں نصب کیا گیا اس کے بعد ہی یہ کراچی کے ساحل ہاکس بے تک پہنچ سکی ہے۔

’ٹو افریقہ سب میرین انٹر نیٹ کیبل‘ نامی یہ کیبل پاکستان کو مڈل ایسٹ ، افریقہ اور یورپ سے منسلک کرے گی۔ یہ کیبل 45 ہزار کلومیٹر پرمشتمل ہے، جبکہ 33 ممالک میں 46 لینڈنگ اسٹیشنز اس کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔

پاکستان کے لیے ایک اہم سنگ میل

اس کیبل کو پاکستان تک پہنچانے والی کمپنی ٹرانس ورلڈ کے چیف ٹیکنیکل آفیسر ٹرانس ورلڈ عامر الدین کے مطابق ٹو افریقہ سب میرین کیبل ڈیجیٹل پاکستان کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا جو انٹرنیٹ مواد بڑھنے اور انٹرنیٹ کیبلز کی طلب میں بھی اضافے کا باعث بنے گی۔

یاد رہے کہ اس کمپنی نے اس سے پہلے بھی 2 انٹرنیٹ سب میرین کیبلز پاکستان تک پہنچائی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بیرون ملک پاکستانیوں کے روزگار، فلاحی مسائل اور کمیونٹی ویلفیئر اتاشیز کی کارکردگی کا جائزہ

پاکستان نے 2 سال کے لیے اقتصادی تعاون تنظیم کی چیئرمین شپ سنبھال لی

دہشتگرد وادی تیراہ میں موجود، کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں کی جائےگی، مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ

یونان میں دنیا کے قدیم ترین لکڑی کے اوزار دریافت، لاکھوں سال محفوظ رہنے پر سائنسدان حیران

بلوچستان حکومت کا بڑا انتظامی فیصلہ، محکمہ مذہبی امور تحلیل کرنے کی منظوری

ویڈیو

پروپیگنڈا ناکام، منہ توڑ جواب میں ہوش اڑا دینے والے ثبوت آگئے

22 لاکھ کی گاڑی کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے کی نمبر پلیٹ، پشاور میں نیا کارنامہ

گوادر: چائے کی خوشبو میں لپٹی خواتین کی خود مختاری، 3 پڑھی لکھی سہیلیوں کا کارنامہ

کالم / تجزیہ

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی

نظر نہ آنے والے ہتھیاروں سے کیسے بچاؤ کیا جائے؟