اب سبزیوں سے کورونا ویکسین کے فوائد ملیں گے

منگل 17 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنسدانوں نے ایسے پودے اگانے کی کوشش شروع کر دی ہے جنہیں کھانے سے کورونا ویکسین موڈرنا اور فائزر جیسے فوائد حاصل کیے جا سکیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین لگوانے کے خیال کے ساتھ ہی بہت سے انسانوں کے ذہن میں لمبی سرنج اور ویکسین لگنے کے بعد کی تکلیف سوار ہو جاتی ہے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔

اگر کیلیفورنیا یونیورسٹی ، ریور سائیڈ (یو سی آر) کے محققین خوردنی پودوں کے ذریعے میسنجر آر این اے (ایم آر این اے) ویکسین ٹیکنالوجی کی فراہمی کی کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو بہت جلد ویکسین سے چھٹکارہ حاصل کر لیا جائے گا۔

ماہرین کو امید ہے کہ وہ ایسی سبزیاں اگا سکتے ہیں جن سے ویکسین ٹیکنالوجی فراہم کی جائے جو موڈرنا ، فائزر اور دوسری کورونا ویکسین بنانے میں استعمال کی جا رہی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ویکسین کے مقابلے میں پودوں کا استعمال زیادہ آسان ہو گا کیونکہ ویکسین شاٹ کے مقابلے میں پودوں کو زیادہ آسانی سے ہضم کیا جا سکتا ہے۔

پودوں کا نقل و حمل اور ذخیرہ کرنا بھی آسان ہو گا کیونکہ ویکسین کے شاٹس کو بہت ٹھنڈے درجہ حرارت میں رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔

اگر سائنسدانوں کا تجربہ کامیاب ہوتا ہے تو ، یہ پودے کم آمدنی والے ممالک کے لیے ایک نعمت ثابت ہوسکتے ہیں ۔ کوویڈ ویکسین کی خوراکوں کے مقابلے میں انہیں ذخیرہ کرنےاور ان کے نقل و حمل میں اخراجات بہت کم آئیں گے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ فائزر اور موڈرنا شاٹس میں استعمال ہونے والی ایم آر این اے ٹیکنالوجی طویل عرصے سے موجود ہے لیکن اس سے پہلے ادویات میں اسے شاذو نادر ہی استعمال کیاگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ایک پودا ایک فرد کو ویکسین دینے کے لیے کافی ایم آر این اے پیدا کرے گا۔ ہم پالک اور سلاد کے پتوں کے ساتھ یہ تجربات کر رہے ہیں اور طویل مدتی منصوبے میں ان پودوں کو لوگوں کو اپنے گھروں میں اگانے کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp