ڈیپ سیک یا چیٹ جی پی ٹی، مصنوعی ذہانت کا کون سا ماڈل بہتر ہے؟

منگل 28 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کی ایک کمپنی کی بنائی گئی ’ڈیپ سیک‘ نامی مصنوعی ذہانت کے ماڈل نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچادیا ہے۔

حال ہی میں لانچ کی گئی ’ڈیپ سیک‘ کا موازنہ اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی سے کیا جارہا ہے اور دونوں کے فیچرز کے بارے میں بحث شروع ہوگئی ہے۔

لیکن ان دونوں آرٹیفشل انٹیلجنس ماڈلز میں بنیادی فرق کیا ہے اورڈیپ سیک کی کونسی خصوصیات اسے چیٹ جی پی ٹی سے بہتر بناتی ہیں؟

ماہرین کے مطابق دونوں ماڈلز میں سب سے بڑا فرق ان دونوں پہ لگنے والی لاگت کا ہے۔ اوپن اے آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے اپنے چیٹ جی پی ٹی کی ڈیٹا میں تربیت کے لیے کئی ملین ڈالرز لگانے پڑے جبکہ ڈیپ سیک کے مطابق ڈیٹا ٹریننگ میں اس کے صرف 5.5 ملین ڈالرز لگے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:چینی ڈیپ سیک کیا ہے اور اس نے کیسے امریکی اسٹاک مارکیٹ کو بٹھادیا؟

اس کم لاگت کا اثر دونوں ماڈلز کے صارفین پر بھی پڑا ہے۔ Deap Seek R-1 کی ماہانہ سبسکرپشن صرف 0.50 ڈالر ہے جبکہ چیٹ جی پی ٹی اوپن اے آئی۔1 کی ماہانہ فیس 20 ڈالر ہے۔

ڈیپ سیک کی ایک اہم خصوصیت اس کے آوٹ پُٹ کی سوال سے مطابقت کا بھی ہے۔ ڈیپ سیک کے جوابات یا اس کے ذریعے دکھائے جانے والے نتائج کو صارف کی طرف سے دی گئی کمانڈ سے نسبتاً زیادہ قریب سمجھا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ صارفین ڈیپ سیک کو ریاضی، منطق اور کوڈنگ سے متعلق سوالات میں بھی چیٹ جی پی ٹی سے بہتر قرار دے رہے ہیں۔

ڈیپ سیک کا ایک اور اہم پہلو وہ اوپن سورس ڈیٹا ہے جسے یہ اپنی تربیت اور نتائج یا آوٹ پُٹ کے لیے استعمال کرتی ہے۔ یعنی یہ وہ مواد استعمال کرتی ہے جس کے پبلک استعمال کی اجازت ہوتی ہے۔ دوسری طرف چیٹ جی پی ٹی کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کہ یہ انٹرنیٹ پر موجود اس مواد تک بھی رسائی حاصل کرکے اسے اپنے کام میں لاتا ہے جس کی اسے اجازت نہیں ہوتی۔ اوپن اے آئی کو اس حوالے سے ابھی تک متعدد قانونی کاروائیوں کا بھی سامنا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی دوڑ: چینی کمپنی ڈیپ سیک نے میدان مار لیا

ایک اور اہم بات ڈیپ سیک کا بذات خود اوپن سورس ہونا بھی ہے۔ یعنی ڈیپ سیک صارفین اپنے ڈیوائسز پر ڈاون لوڈ کرکے استعمال کرسکتے ہیں اور ان کے ذاتی ڈیٹا پر مرکزی کمپنی کا کنڑول کم سے کم ہوتا ہے تاہم دوسری طرف چیٹ جی پی ٹی پر اوپن اے آئی کا تصرف زیادہ ہے جو صارفین کے لیے بعض دفعہ تشویش کا باعث بنتا ہے۔

انہی وجوہات کی بناپر ڈیپ سیک حالیہ دنوں امریکا سمیت دنیا کے 51 دوسرے ممالک میں سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی ایپ بن گئی ہے اور پیر کے دن ڈیپ سیک کے ڈاون لوڈز کی تعداد 2.6 ملین تک پہنچ گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد پولیس کارروائی کے دوران فائرنگ، ڈکیت گینگز کے 2 ارکان زخمی، سرچ آپریشن جاری

وزیراعظم شہباز شریف کا پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن پر امن، رواداری اور انسانی حقوق کے فروغ کا عزم

پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کو آئی سی سی اجلاس میں شرکت کی دعوت

مزید10کیسز کا سامنا، عبایا میں ملبوس انمول پنکی کو سٹی کورٹ پہنچا دیا گیا

حکومت کا بجٹ میں اضافی محصولات اور پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا فیصلہ، عالمی مالیاتی ادارے سے معاہدہ

ویڈیو

خیبر پختونخوا حکومت کے ترقیاتی دعوؤں پر عوام کی رائے

بھارت میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی آوازیں: یہ تبدیلی کیوں اور کیسے آئی؟

کوکین کوئین کے خلاف اگر منشیات اور اسلحہ رکھنے کا جرم ثابت ہوجائے تو مجموعی طور پر کتنی سزا ہوسکتی ہے؟

کالم / تجزیہ

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں

کبھی آپ نے ‘ناکامی’ کی تقریب منائی ہے؟