پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے بغدادی میں منہدم ہونے والی عمارت کے دورے کے موقع پر ذمہ داروں سے استعفیٰ طلب کرلیا۔
لیاری سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ عمارت بنانے والے بلڈر کے خلاف صرف مقدمہ ہی نہیں بلکہ اسے گرفتار بھی کرائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک کرپٹ ادارہ ہے، اس کے سربراہ اُن کا فون تک نہیں اٹھاتے، کہا جاتا ہے کہ وہ خطرناک آدمی ہے، اس کو کچھ کہیں گے تو اوپر سے فون آجائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: لیاری بغدادی میں 60 گھنٹے طویل ریسکیو آپریشن مکمل، مخدوش عمارتوں کیخلاف آپریشن کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بدعنوان افسران غیر قانونی تعمیرات میں ملوث ہیں، ان کے خلاف محض نوٹس نہیں بلکہ عملی کارروائی کی جائے گی، میں ہمیشہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ایکشن لیتا رہا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے معاملے پر سوالوں کے جوابات لینے کے لیے کل وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا گیا ہے اور اہم فیصلے متوقع ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ غیر قانونی عمارتوں میں خرید و فروخت سے گریز کریں تاکہ ایسی صورتحال دوبارہ نہ پیدا ہو۔
نبیل گبول نے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن کا اعلان کرکے کہا کہ یہ مذاق نہیں ہے، 120 خطرناک عمارتوں کو خالی کرایا جائے گا تاکہ مزید قیمتی جانوں کا نقصان نہ ہو، شہر میں بے قابو بلڈنگ مافیا اور انہیں تحفظ دینے والے سرکاری عناصر کے خلاف حکومت سنجیدہ ہے اور آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر آپریشن کیا جائے گا۔












