وفاقی کابینہ کا 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا حتمی فیصلہ

منگل 8 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزارتِ غذائی تحفظ  کے مطابق وفاقی کابینہ نے ملک میں چینی کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

وزارت کا کہنا ہے کہ چینی کی درآمد سرکاری شعبے کے ذریعے کی جائے گی اور اس کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، درآمدی عمل کا فوری آغاز کیا جا رہا ہے تاکہ مقامی منڈی میں چینی کی طلب و رسد میں توازن قائم رکھا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار کی زیرصدارت اجلاس، 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ برقرار

ترجمان وزارت غذائی تحفظ کے مطابق، چینی کی درآمد کا موجودہ طریقہ کار ماضی کی حکومتوں سے بالکل مختلف اور ایک بہتر حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

’ماضی میں اکثر اوقات مصنوعی قلت پیدا کر کے قومی خزانے پر سبسڈی کا بوجھ ڈالا جاتا رہا، جبکہ موجودہ حکومت نے وافر دستیابی کے وقت چینی برآمد کی اور اب ضرورت کے تحت اس کی درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔‘

مزید پڑھیں:سپریم کورٹ بار کا پیٹرولیم مصنوعات اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ پر اظہارِ تشویش

ترجمان وزارت غذائی تحفظ کا مزید کہنا ہے کہ یہ اقدام عوامی مفاد اور معیشت کے استحکام کے لیے ضروری تھا تاکہ چینی کی قیمتیں قابو میں رہیں اور صارفین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنوبی وزیرستان میں لشمینیا کے 255 مریض رپورٹ، بچوں میں بڑھتے کیسز باعث تشویش

نئی دہلی کی رہائشی عمارت میں خوفناک آتشزدگی، 9 افراد ہلاک، ایک سالہ بچہ بھی شامل

حفیظ پاشا اور ون کانسٹیٹیوشن ایونیو تنازع: سرکاری زمین، لگژری فلیٹس اور اربوں کے واجبات

جمائما گولڈ سمتھ کی ایک بار پھر ارب پتی بزنس مین سے شادی کی تیاری

بنگلہ دیش: اپوزیشن کا حکومت پر اصلاحات سے انحراف کا الزام، آمرانہ رجحانات کے خدشات

ویڈیو

پنجاب ٹورازم اینڈ انویسٹمنٹ ایکسپو، سرمایہ کاروں کے لیے سنہری موقع

پاکستان کا آئی کیوب قمر مشن، کامیابیاں کیا رہیں اور اگلی لانچ کب؟

پی ایس ایل فائنل: حیدرآباد کنگز مین کے شائقین ٹرافی جیتنے کے لیے پُرامید

کالم / تجزیہ

امیر ملکوں میں رودالی کلچرکا احیا

صحافت بمقابلہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس: کون جیتے گا؟

امریکی دبدبہ