امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان سے متعلق سوالات پر باضابطہ جواب دینے سے گریز کیا ہے۔
صحافی نے سوال کیا تھا کہ کیا امریکی حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل میں قید کو پاکستان کا داخلی معاملہ سمجھتی ہے؟
ٹیمی بروس نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی حکومت کا موقف جاننا ہو تو وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ سے رابطہ کریں۔ انہوں نے اس پر مزید بات کرنے سے گریز کیا۔
یہ بھی پڑھیں کیا صدر ٹرمپ عمران خان کو رہا کروائیں گے؟ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے سوال نظر انداز کردیا
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے عمران خان کی قید کے حوالے سے سوالات پر واضح جواب دینے سے گریز کیا ہو۔ 20 مارچ کو بھی امریکی محکمہ خارجہ نے عمران خان کی قید پر سوالات کے جواب میں کہا تھا کہ وہ کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات پر تبصرہ نہیں کریں گے۔
اس وقت بھی صحافی نے پوچھا تھا کہ کیا امریکی صدر ٹرمپ، عمران خان کو جیل میں ڈالے جانے کے حوالے سے کوئی قدم اٹھائیں گے؟ ٹیمی بروس نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات پر بات نہیں کریں گی۔
یہ بھی پڑھیے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر امریکی مؤقف کا کیا مطلب ہے؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کی اس محتاط پوزیشن کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات میں توازن برقرار رکھنا اور داخلی سیاست پر تبصرہ کرنے سے اجتناب کرنا ہے۔














