تنخواہ میں بونس کے ساتھ دوڑ بھی ضروری، چینی کمپنی کی انوکھی پالیسی

بدھ 16 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کی ایک نجی کمپنی نے ملازمین کی صحت کو فروغ دینے کے لیے سالانہ بونس کا نیا اور منفرد طریقہ متعارف کرا دیا ہے، اب بونس صرف محنت سے نہیں بلکہ دوڑنے سے بھی مشروط ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس کی جانب سے سپریم کورٹ کے تمام ملازمین کو 3 تنخواہیں بطور بونس دینے کی منظوری

کمپنی گوانگ دونگ دونگپو پیپر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ملازمین کو سالانہ بونس تبھی دیا جائے گا جب وہ جسمانی طور پر متحرک اور فٹ ہوں گے۔ اس پالیسی کے تحت ملازمین کی دوڑنے کی رفتار اور فاصلے کو بونس کی بنیاد بنایا گیا ہے۔

چیئرمین نے واضح کیا ہے کہ جو ملازم ہر مہینے 62 میل (یعنی تقریباً 100 کلومیٹر) دوڑنے کا ہدف مکمل کرے گا، اسے سال کے اختتام پر تنخواہ کا 130 فیصد بطور بونس دیا جائے گا۔ جبکہ 31 میل (تقریباً 50 کلومیٹر) دوڑنے والے ملازمین کو ایک مکمل ماہ کی تنخواہ بطور بونس دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈی چوک احتجاج: گرفتار سرکاری ملازمین کی رہائی پر بونس، پروموشن اور چھٹیوں کا وعدہ

چیئرمین کے مطابق اس پالیسی کا مقصد صرف کارکردگی کا انعام دینا نہیں بلکہ ملازمین کی صحت اور فٹنس کو بہتر بنانا بھی ہے تاکہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر زیادہ فعال رہیں۔

یہ انوکھا قدم سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے جہاں صارفین اسے بیک وقت دلچسپ اور چیلنجنگ قرار دے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کی معروف خاتون رہنما آسیہ اندرابی دہشتگردی کیس بری، دیگر الزامات میں مجرم قرار

مودی کی توجہ طلبی اور جرمن چانسلر کی دوری، بھارتی وزیراعظم ایک بار پھر مذاق کا نشانہ بن گئے

ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو 26 نومبر سے بھی زیادہ سخت کارروائی کا سامنا ہوگا، طلال چوہدری

بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کی قیادت میں انتخابی اتحاد، 253 نشستوں پر انتخابی معاہدہ طے

دھند کے باعث پاکستان میں فضائی آپریشن متاثر

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘