بڑھتی آبادی معیشت کے لیے چیلنج، نوجوان اور خواتین کو مواقع دیے جائیں، وزیراعظم

جمعرات 7 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں آبادی کی سالانہ شرح 2.55 فیصد ہے جو تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے مؤثر منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ انہیں ملکی معیشت کا فعال حصہ بنایا جا سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو معیشت میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے حکومت مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ خواتین بھی ملکی افرادی قوت کا ایک بڑا اور اہم حصہ ہیں، لہٰذا ان کے لیے ملازمت کے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

مزید پڑھیں: یمن کی نصف آبادی کو بدترین بھوک کا سامنا، قحط کا خدشہ

وزیراعظم نے صوبوں کے تعاون سے ایک مؤثر حکمت عملی تشکیل دینے کی ہدایت کی تاکہ آبادی میں اضافے سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ اس موقع پر انہوں نے قومی سطح پر ایک پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اس مقصد کے لیے کمیٹی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔

اجلاس میں وزیراعظم کو مختلف سفارشات پیش کی گئیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ معاشی ترقی کے تناظر میں آبادی میں اضافے سے متعلق عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی ڈاکٹر احسن اقبال، وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شریک تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘