جاپان میں اوکی ناوا کے ساحل کے قریب آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے میں صرف معمولی نوعیت کے زخمیوں کی اطلاع ملی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:طاقت کا مظاہرہ : امریکا نے مشرق وسطیٰ کیجانب دوسرا بحری بیڑا روانہ کر دیا
امریکی بحریہ کے ساتویں بیڑے کے مطابق، جہاز پر لگی آگ جمعرات کی صبح تقریباً 4 بجے (جاپان اسٹینڈرڈ ٹائم) امریکی بحریہ اور جاپانی کوسٹ گارڈ کے عملے نے مل کر بجھا دی۔
آگ بدھ کی سہ پہر تقریباً 4 بجے لگی تھی، اور اس کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
آگ بجھانے کے عمل میں قریبی موجود یو ایس ایس سان ڈیاگو کے عملے نے بھی مدد فراہم کی۔ واقعے میں 2 امریکی اہلکار معمولی زخمی ہوئے، جنہیں جہاز پر ہی طبی امداد دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران آئندہ 48 گھنٹوں میں اسرائیل پر جوابی حملہ کرسکتا ہے، امریکی وزیر خارجہ
بحریہ کے مطابق نیو اورلینز کا عملہ جہاز پر ہی قیام کرے گا۔ تاہم یہ واقعہ امریکی بحریہ کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ اس وقت جنگی بحری جہازوں کی دستیابی میں کمی کے مسائل پہلے ہی درپیش ہیں۔
ایک دفاعی عہدیدار کے مطابق، میری میرین مشنز کے لیے ضروری ایمفیبیئس جنگی جہازوں کی آپریشنل تیاری کی شرح اس وقت صرف 41 فیصد رہ گئی ہے۔
حکومتی احتسابی دفتر (GAO) کی 2024 کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ امریکی بحریہ کے 32 ایمفیبیئس وار شپس میں سے نصف خراب مادی حالت میں ہیں۔
یاد رہے کہ نیو اورلینز سن 2009 میں آبنائے ہرمز میں امریکی آبدوز یو ایس ایس ہارٹ فورڈ سے بھی ٹکرا چکا ہے۔