پاکستان کی جانب سے افغانستان پر فضائی حملہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ہے، سفارتی ماہرین

جمعہ 29 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں پر فضائی حملے بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت پر پاکستان کو بھارت کے خلاف ایف اے ٹی ایف میں بات کرنی چاہیے۔

دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے خلاف افغان حکومت کے اقدامات کے حوالے سے انہیں افغان طالبان حکومت کی نیت پر کوئی شک نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان، چین، افغان وزرائے خارجہ کا اجلاس، سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق

خیال رہے کہ 27 اگست کو پاکستان نے افغانستان کے ننگرہار اور خوست میں تحریکِ طالبان پاکستان اور حافظ گُل بہادر گروپ کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ اس کے بعد افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے کابل میں پاکستان کے سفیر کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ دیا۔ افغان وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اس حملے میں 3 سویلین جاں بحق اور سات زخمی ہوئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی جانب سے افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی افغان خودمختاری کے منافی ہے اور اس کے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

خوست میں پاکستانی حملے سے تباہ شدہ عمارت کا منظر، تصویر: واشنگٹن پوسٹ

افغانستان کے سفارتی احتجاج کے بارے میں سوال کے جواب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم بھی اس طرح کے احتجاجی مراسلے دیتے رہتے ہیں، یہ معمول کی بات ہے۔ انہوں نے 20 اگست کے اپنے دورہ کابل اور پاکستان، افغانستان، چین سہ فریقی مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے طالبان حکومت کو باور کرایا کہ ہمارے تحفظات ٹی ٹی پی سے متعلق ہیں جبکہ چین نے ای ٹی آئی ایم کے بارے میں اپنے تحفظات ظاہر کیے۔ اس پر طالبان حکومت نے مزاحمت نہیں کی بلکہ یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کے خلاف اقدامات کر رہے ہیں، جن میں انہیں سرحد سے دور لے جانا بھی شامل ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ افغان حکام نے پاک۔افغان سرحد کے ساتھ 700 چیک پوسٹیں ختم کر دی ہیں۔

پاک-افغان تنازع اور حالات میں بہتری

سال 2025 کے آغاز میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خاصے کشیدہ رہے، خصوصاً پاکستان کے ان فضائی حملوں کے بعد جو افغانستان کے اندر تحریک طالبان پاکستان کے مبینہ ٹھکانوں پر کیے گئے۔

اس سے قبل 2024 کے اوائل میں بھی پاکستان نے خوست اور پکتیکا میں اسی نوعیت کے حملے کیے تھے۔ افغان طالبان نے ان حملوں کی مذمت کی اور دعویٰ کیا کہ ان میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری ہلاک ہوئے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا۔

تاہم تعلقات میں بہتری کا آغاز 19 اپریل کو اس وقت ہوا جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کابل کا پہلا دورہ کیا۔ اس کے بعد مئی میں بیجنگ میں پاکستان، افغانستان اور چین کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ہوئی، جس میں تعلقات بہتر بنانے اور تجارت بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ 20 اگست کو تینوں ممالک کے درمیان کابل میں ایک اور سہ فریقی مذاکرات بھی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے: بنوں چھاؤنی حملہ: افغانستان ذمہ داروں کے خلاف فوری، مضبوط اور مؤثر کارروائی کرے، پاکستان

گزشتہ ہفتے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے پر ہم افغان حکام سے مسلسل بات کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کا بنیادی تحفظ یہ ہے کہ افغان سرزمین کو ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ پاکستان نے اس حوالے سے ثبوت بھی دیے، لیکن طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

سفارتکار مسعود خان کی رائے

امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب ایمبیسڈر مسعود خان نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان پر فضائی حملے بالکل جائز اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہیں۔ ان کے مطابق عالمی قوانین کسی بھی ملک کو یہ اجازت دیتے ہیں کہ اگر کسی ملک سے مسلسل خطرہ ہو تو اس کے خلاف نہ صرف جوابی کارروائی بلکہ پیشگی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے جو جنیوا کنونشن کے بھی عین مطابق ہے۔

یہ بھی پڑھیے: افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی کے دہشتگرد ٹھکانوں پر حملہ کیا، پاکستان

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا پاکستان بھارت کے خلاف کوئی ایکشن لے سکتا ہے، جو ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید برگیڈ کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے، مسعود خان نے کہا کہ سب سے پہلے ہم امریکا کے شکر گزار ہیں کہ جس نے بی ایل اے اور مجید برگیڈ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو چاہیے کہ اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جائے تاکہ وہاں بھی ان تنظیموں کو دہشت گرد قرار دلایا جا سکے۔ بھارت کھلے عام ان تنظیموں کی مدد کرتا ہے، ان کے رہنما بھارت کے حق میں بیانات دیتے ہیں اور ان کے زخمی دہشت گردوں کا علاج بھارت میں کیا جاتا ہے۔ لہٰذا پاکستان کو یہ معاملہ فیٹف میں بھی اٹھانا چاہیے، جیسے ماضی میں بھارت پاکستان کے خلاف ایسے اقدامات کرتا رہا ہے۔

ماریہ سلطان کی رائے

ساؤتھ ایشین اسٹریٹجک اسٹیبیلٹی انسٹیٹیوٹ کی صدر ماریہ سلطان نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں پر افغان طالبان حکومت کا ردعمل ایک معمول کا سفارتی ردعمل تھا کیونکہ ان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہوئی تھی۔ تاہم اس کے علاوہ افغان حکومت نے کوئی سخت اقدام نہیں کیا اور نہ ہی کسی فوجی کارروائی کی بات کی۔

ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ افغان طالبان حکومت نے دوحہ معاہدے میں تسلیم کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1267 اور 1373 کے تحت اگر افغان سرزمین دہشت گردوں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتی ہے تو عالمی برادری کارروائی کر سکتی ہے۔ اسی بنیاد پر پاکستان کی فضائی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہیں۔

ماریہ سلطان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان قراردادوں کے تحت دہشت گرد تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کرنے والے ممالک پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ چونکہ بی ایل اے اور مجید برگیڈ کو عالمی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا جا چکا ہے اور ٹی ٹی پی پہلے ہی عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم کے طور پر تسلیم شدہ ہے، اس لیے بھارت کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے کیونکہ بھارت ان تنظیموں کی مالی مدد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یہ معاملہ فیٹف میں اٹھایا ہے لیکن چونکہ فیٹف کا ایشیا پیسیفک گروپ اس کی نگرانی کرتا ہے اور اس وقت اس کی سربراہی بھارت کے پاس ہے، اس لیے پیش رفت نہیں ہو پا رہی۔ تاہم بدلتے ہوئے حالات میں بھارت کے خلاف دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزامات پر کارروائی ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، کالعدم ٹی ٹی پی کے 3 دہشتگرد ہلاک

ماریہ سلطان نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستانی سفیر کو احتجاجی مراسلہ دینا ایک معمول کی سفارتی مشق ہے۔ تاہم ایک عمومی اتفاق رائے یہ ہے کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کا حق رکھتا ہے۔ کابل میں پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کو انہوں نے مثبت پیشرفت قرار دیا اور کہا کہ افغانستان کو اپنی معیشت کے لیے مالی ذرائع درکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک راستہ یہ ہے کہ افغانستان سی پیک سے جڑ کر ٹرانزٹ ٹریڈ روٹ کا حصہ بنے تاکہ معاشی سرگرمیاں بڑھ سکیں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ افغان معیشت کا انحصار دہشت گردی، منشیات اور جرائم پر ہو۔ عالمی برادری بھی چاہتی ہے کہ افغانستان کی معیشت تجارت پر انحصار کرے اور اس کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ پاکستان بھی یہی امید رکھتا ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین پر مکمل اختیار قائم کریں گے اور اسے دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp