امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین، روس اور ان کے اتحادیوں کے تعلقات میں گرم جوشی کو امریکا کے لیے عالمی سطح پر کسی بڑے چیلنج کے طور پر ماننے سے انکار کر دیا ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور یہ کہ چین کو ہماری ضرورت زیادہ ہے، ہمیں ان کی کم ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چین اور روس نے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کی یورپی کوششیں قانونی طور پر غلط قرار دے دیں
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چینی صدر شی جن پنگ بدھ کے روز بیجنگ میں ‘وِکٹری ڈے’ فوجی پریڈ کی میزبانی کریں گے جس میں چین اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کرے گا۔ اس موقع پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان بھی شریک ہوں گے جسے بعض مبصرین مغربی ممالک کے لیے ایک پیغام قرار دے رہے ہیں۔
روسی صدر پیوٹن نے بیجنگ میں مذاکرات کے دوران چین کے ساتھ تعلقات کو بے مثال قرار دیا ہے جبکہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان بھی اپنی بیٹی کے ہمراہ بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔

ٹرمپ نے بی بی سی کے سوال پر کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ چین اور اس کے اتحادی امریکا کے خلاف کوئی بین الاقوامی اتحاد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بالکل نہیں۔ چین کو ہماری زیادہ ضرورت ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک ریڈیو انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ وہ روس اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے فکر مند نہیں ہیں کیونکہ امریکا دنیا کی سب سے طاقتور فوجی قوت رکھتا ہے۔
ان کے بقول وہ کبھی بھی اپنے فوجی وسائل ہمارے خلاف استعمال نہیں کریں گے۔ یقین کریں یہ ان کے لیے سب سے بڑی غلطی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ کی یوکرینی صدر سے ملاقات، جنگ ختم کرنے کے لیے پوٹن سے فون پر رابطے کا اعلان
اسی انٹرویو میں ٹرمپ نے یوکرین کے معاملے پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الاسکا میں گزشتہ ماہ ہونے والی ملاقات میں وہ امن معاہدہ کرنے میں ناکام رہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ میں صدر پیوٹن سے بہت مایوس ہوں، یہ کہہ سکتا ہوں۔
دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس محاذ جنگ کے کچھ حصوں پر نئی فوجی تیاری کر رہا ہے۔ اپنے رات گئے خطاب میں زیلنسکی نے کہا کہ پیوٹن امن پر مجبور ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔














