پاکستان میں ٹیلی کام نگرانی کا نظام قانونی اور عالمی معیار کے مطابق ہے، پی ٹی اے

منگل 9 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے واضح کیا ہے کہ ملک میں ٹیلی کام اور انٹرنیٹ نگرانی کا عمل نہ تو کوئی استثنائی ہے اور نہ ہی غیر قانونی، بلکہ یہ عالمی سطح پر رائج اور تسلیم شدہ قانونی روایت کا حصہ ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق جدید نگرانی کے نظام جیسے LIMS اور WMS 2.0 دنیا بھر میں استعمال کیے جاتے ہیں اور یہ ریاستی سلامتی، جرائم کی روک تھام اور انسدادِ دہشتگردی کے لیے ایک معمول کا قانونی طریقہ کار ہے۔

پاکستان میں بھی اس حوالے سے مناسب قوانین اور قواعد و ضوابط موجود ہیں جو اس عمل کو من مانے یا غیر شفاف ہونے سے روکتے ہیں۔ پی ٹی اے نے بتایا کہ پاکستان میں نگرانی کے لیے قانونی بنیادیں واضح ہیں:

مزید پڑھیں: پی ٹی اے نے مبینہ ڈیٹا لیک کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا

ٹیلی کام پالیسی 2015 کے تحت پی ٹی اے کو غیر قانونی مواد، کمیونیکیشن اینالسز، ویب اینالسز اور گرے ٹریفک مانیٹرنگ کے لیے ٹیکنالوجی نصب کرنے کا اختیار ہے۔

پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016، سیکشن 37 کے مطابق غیر قانونی مواد کو ہٹایا یا بلاک کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996، سیکشن 54(3) وفاقی حکومت کو انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

اسٹَیچیوٹری ریگولیٹری آرڈر (SRO) 1005 (I)/2024، وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے 8 جولائی 2024 کے نوٹیفکیشن کے مطابق، وفاقی حکومت کالز اور پیغامات انٹرسیپٹ کرنے اور ان کا سراغ لگانے کی مجاز ہے۔

مزید پڑھیں: سیکریٹری پی ٹی اے کو عدالتی کارروائی کی وارننگ

عالمی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا کہ بھارت میں ٹیلی کام ایکٹ 2023، آئی ٹی ایکٹ 2000، اور CMS و LIM سسٹمز فعال ہیں جبکہ امریکا میں FISA سیکشن 702، برطانیہ میں Investigatory Powers Act 2016 اور چین میں گریٹ فائر وال اور ڈیجیٹل آئی ڈی قانون نگرانی کو ادارہ جاتی شکل دیتے ہیں۔

پی ٹی اے نے مؤقف اپنایا کہ بعض سیاسی حلقے، خصوصاً تحریک انصاف، عوامی لاعلمی کا فائدہ اٹھا کر نگرانی کے قانونی اور عالمی معمول کو استثنائی بنا کر پیش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا نگرانی کا نظام مکمل طور پر قانونی، ریگولیٹڈ اور عالمی معیار کے مطابق ہے۔
ا

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایم 9 موٹروے حادثہ: اموات کی تعداد 14 ہوگئی، 12 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے نکلا

رواں سال ڈیڑھ لاکھ افغانوں کی وطن واپسی، افغانستان میں صورتحال سنگین

عمران خان کو نجی اسپتال میں داخل کرانے کا مطالبہ، حکومت کا ردعمل آگیا

ٹی20 ورلڈ کپ: محسن نقوی کا پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے سری لنکا جانے کا امکان

5 پاؤنڈز کا عطیہ جیب میں ڈالنے کا معاملہ، ابرار الحق اور صحافی سفینہ خان کے درمیان تکرار کی ویڈیو وائرل

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟