سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: قتل کیس میں سزایافتہ شہری کی بریت منظور

منگل 23 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے ایک طویل قانونی جنگ کے بعد قتل کیس کے نامزد ملزم مشتاق احمد کو بری کر دیا۔

عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے نے ایک مرتبہ پھر اس سوال کو اجاگر کر دیا ہے کہ سنگین مقدمات میں انصاف کے تقاضے کیسے پورے کیے جائیں اور گواہوں کے بیانات کس حد تک فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں۔

ٹرائل کورٹ نے ملزم مشتاق احمد کو سزائے موت سنائی تھی، جبکہ شریک ملزم اشفاق احمد کو عمر قید اور صدیق کو بری کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ ہائیکورٹ جج کے بیٹے کو قتل کرنے کا کیس: سپریم کورٹ نے مرکزی ملزم کو بری کردیا

بعد ازاں ہائی کورٹ نے مشتاق احمد کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا اور اشفاق احمد کی سزا چھ سال کر دی، جو وہ پوری کر چکا ہے۔

جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔

سرکاری وکیل رانا کاشف نے مؤقف اپنایا کہ گواہوں نے واضح طور پر بیان دیا تھا کہ گولی اشفاق احمد نے چلائی تھی، نہ کہ مشتاق نے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: 34 سال پرانے قتل کیس میں نامزد ملزم کی سزا کے خلاف اپیل منظور

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مدعی پارٹی علاقے کے بدمعاش ہیں اور ان کے خلاف قتل کے چالیس مقدمات کا ریکارڈ موجود ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے کئی موقعوں پر طنزیہ مگر معنی خیز ریمارکس دیے۔ انہوں نے سرکاری وکیل سے سوال کیا کہ مشتاق اور اشتیاق کا آپس میں کیا تعلق ہے، جواب ملا کہ دونوں بھائی ہیں۔

جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ بولے؛ آپ اپنے بھائی کے خلاف بات کر رہے ہیں، تاہم وکیل نے وضاحت دی کہ وہ صرف اپنے موکل کی حد تک بات کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: نور مقدم قتل کیس: سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری، ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار

اسی دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک شخص تہجد میں دعا کر رہا تھا کہ یا اللہ یہ لوگ سو رہے ہیں، میری دعائیں قبول فرما، ساتھ سویا ہوا شخص جاگ گیا اور کہنے لگا کہ اپنے لیے دعائیں مانگو، ہماری شکایتیں نہ لگاؤ۔ جسٹس کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ آپ بھی یہی کام کر رہے ہیں۔

عدالت نے تمام ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ مقدمے میں شواہد براہِ راست مشتاق احمد پر لاگو نہیں ہوتے۔ یوں سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے متضاد فیصلوں کو بدلتے ہوئے مشتاق احمد کو بری کردیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم