مودی نے پاکستان پر بات سے بچنے کے لیے آسیان سمٹ میں شرکت منسوخ کی: بلومبرگ

بدھ 29 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ملائیشیا میں ہونے والی آسیان سمٹ میں شرکت اس لیے منسوخ کر دی تاکہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ممکنہ ملاقات میں پاکستان کے معاملے پر بات چیت سے بچ سکیں۔

منگل کو شائع ہونیوالی بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، وزیر اعظم مودی نے ہفتے کے آخر میں مجوزہ دورۂ ملائیشیا منسوخ کر کے آسیان سمٹ میں ورچوئل شرکت کو ترجیح دی۔

بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے الزام لگایا کہ مودی نے یہ فیصلہ امریکی صر ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات کے خوف کی وجہ سے کیا۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک مرتبہ پھر پاک بھارت جنگ کے دوران 7 طیاروں کے گرائے جانے کا تذکرہ

جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کا سالانہ اجلاس اور اس سے منسلک میٹنگز 26 سے 28 اکتوبر تک کوالالمپور میں منعقد ہوئیں۔

بلومبرگ کے مطابق، وزیراعظم مودی نے اس ہفتے ملائیشیا میں ہونے والے علاقائی رہنماؤں کے اجلاس میں شرکت سے اس لیے گریز کیا تاکہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات اور پاکستان پر ممکنہ گفتگو سے بچ سکیں۔

رپورٹ کے مطابق، بھارتی حکام کو اندیشہ تھا کہ ٹرمپ ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرا سکتے ہیں کہ انہوں نے مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان 4 روزہ جنگی تنازع کے بعد جنگ بندی کرائی تھی۔

مزید پڑھیں: نریندر مودی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سامنا کرنے سے ہچکچانے لگے

رپورٹ میں ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت اس حوالے سے سخت پریشان تھی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ نریندر مودی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاست بہار کی اہم انتخابی مہم میں مصروف تھے اور وہ کسی ایسے واقعے سے بچنا چاہتے تھے جو ان کے لیے سیاسی طور پر شرمندگی کا باعث بنتا۔

’وزیر اعظم مودی ریاست بہار میں پارٹی مہم کا مرکزی چہرہ ہیں، اور اگر صدر ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں کوئی بیان دیا تو ان کے مخالفین اسے مودی کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں، جس سے پارٹی کے انتخابی امکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘

مزید پڑھیں: پاکستان کے ساتھ بڑھتے تعلقات بھارت سے دوستی کی قیمت پر نہیں، مارکو روبیو

بلومبرگ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اگست میں بھی وزیر اعظم مودی نے ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس کی دعوت مسترد کر دی تھی، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ امریکی صدر ان کی ملاقات پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کرانے کی کوشش کریں گے۔

اگست میں واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات اس وقت خراب ہوئے جب ٹرمپ انتظامیہ نے بھارت پر 50 فیصد تک تجارتی محصولات عائد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بھارت ماسکو سے رعایتی تیل خرید کر روس کی جنگی معیشت کو سہارا دے رہا ہے۔

اس کشیدگی کو مزید بڑھانے والی بات صدر ٹرمپ کا یہ اصرار تھا کہ انہوں نے مئی میں ہونے والے پاک بھارت تنازع کو ختم کرانے میں کردار ادا کیا تھا، جسے نئی دہلی آج تک تسلیم کرنے سے انکار کر رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟