حکومتی تیاریاں مکمل، 27ویں آئینی ترمیم آج قومی اسمبلی سے منظور ہونے کا امکان

بدھ 12 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

27ویں آئینی ترمیم کی پیر کو سینیٹ سے منظوری ہوگئی تھی جس کے بعد گزشتہ روز (منگل کو) آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں بھی پیش تو کردی گئی تھی البتہ منظور کرانے کا عمل ابھی باقی ہے۔ حکومت کو چونکہ آئینی ترمیم کے لیے مطلوبہ 224 ارکان سے زیادہ 237 اراکین کی حمایت حاصل ہے اس لیے امکان یہی ہے کہ آئینی ترمیم باآسانی منظور کرا لی جائے گی۔

منگل کو وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے آئینی ترمیم پیش کی تھی جس کے بعد پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہان، وزرا اور دیگر اراکین نے آئینی ترمیم پر اظہار خیال کیا تھا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کے اختیارات ختم کرنا غیر آئینی ہے، 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست دائر

وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے اس موقع پر اظہار خیال نہیں کیا، اور امکان یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آج اجلاس کے دوران بلاول بھٹو اور دیگر اہم رہنما خطاب کریں گے جس کے بعد آئینی ترمیم کی منظوری کا عمل شروع کردیا جائے گا۔

آئینی ترمیم کی منظوری کا عمل پہلے شق وار کیا جائے گا، 59 شقوں کی ایک ایک کر کے شق وار منظوری لی جائے گی، جس کے بعد 27ویں آئینی ترمیم کی ایوان سے منظوری کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی آئینی ترمیم کے حمایت کرنے والے اراکین کو حکومتی لابی اور مخالفت کرنے والے اراکین کو اپوزیشن لابی میں جانے کی ہدایت کریں گے جس کے بعد گھنٹیاں بجا کر قومی اسمبلی ہال کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔

اس کے بعد اراکین اپنی اپنی لابیوں میں دستخط کریں گے جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی ترمیم کی منظوری سے متعلق اعلان کریں گے اور بتائیں گے کہ کتنے اراکین نے آئینی ترمیم کی حمایت کی ہے اور مخالفت میں کتنے ووٹ آئے۔

امکان یہی ہے کہ 235 اراکین کی حمایت سے 27ویں آئینی ترمیم منظور کرلی جائے گی جبکہ مخالفت میں 9 ووٹ دیے جائیں گے۔

متحدہ اپوزیشن نے آئینی ترمیم کی مخالفت کی ہے اور امکان یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ آئینی ترمیم کی مخالفت میں ووٹ نہیں دیں گے البتہ جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے اراکین کو آئینی ترمیم کی مخالف میں ووٹ دینے کی ہدایت جاری کی ہے۔

مولانا فضل الرحمان خود تو بیرون ملک ہیں البتہ ان کے ارکان قومی اسمبلی آئینی ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیں گے۔

اپوزیشن کی جانب سے آئینی ترمیم پیش کرنے کے دوران شدید نعرے بازی اور احتجاج کا امکان بھی ہے، سینیٹ کی طرح قومی اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے مسودے کی کاپیاں پھاڑنے اور ایوان میں احتجاج کرنے کے بعد ایوان کے باہر بھی احتجاج کرنے کا امکان ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس کا ایجنڈا بھی جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق اجلاس آج صبح 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوگا جس میں رکن اسمبلی ڈاکٹر شرمیلا فاروقی، رمیش لال اور خورشید احمد جونیجو کی جانب سے سائبر جرائم کے بڑھتے واقعات اور سائبر سیکیورٹی کے معاملے پر توجہ دلائو نوٹس پیش کیے جائیں گے۔

اس کے بعد وزیرِ قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں 27ویں ترمیم کا بل منظور کرنے کے لیے پیش کیا جائےگا۔

مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم پر ریٹائرڈ ججز کیا کہتے ہیں؟

ایجنڈے کے مطابق اجلاس کے دوران وفاقی وزیر تعلیم و تربیت خالد محمود صدیقی دانش اسکول کے قیام اور کنگ حماد یونیورسٹی کے قیام کا بل پیش کریں گے۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری تحریکِ تشکر پیش کریں گے، جو صدرِ مملکت کے پارلیمنٹ سے حالیہ خطاب پر اظہارِ تشکر کے طور پر پیش کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم