بلغاریہ کے صدر رومن رادیف آئندہ ہفتے پارلیمانی جماعتوں سے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مشاورت کا آغاز کریں گے۔
یہ اقدام ملک گیر بدعنوانی مخالف مظاہروں کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے کے بعد کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلغاریہ: 18 افغان مہاجرین کی ہلاکت، 7 افراد گرفتار
رواں برس جنوری میں عنان اقتدار سنبھالنے والے وزیراعظم روزن ژیلیازکوف کی اقلیتی حکومت اس دوران عدم اعتماد کی 6 تحریکوں سے تو بچتی رہی، تاہم جمعرات کو ہونے والے سڑکوں پر نکلنے والے ہزاروں مظاہرین کے دباؤ کے باعث بالآخر ختم ہو گئی۔
صدر رادیف سب سے پہلے پارلیمنٹ میں سب سے بڑی جماعت کو حکومت سازی کے لیے مذاکرات کی دعوت دیں گے۔
Two days ago, the Bulgarian government resigned after mass protests, led by GenZ youth and students who demanded an end to corruption and mafia influence. These protests would be considered child's play compared to any betrayal by our government. https://t.co/BUyULHwICc
— EMPR.media (@EuromaidanPR) December 14, 2025
اگر یہ کوشش ناکام ہوئی تو دوسری بڑی جماعت کو موقع دیا جائے گا۔ اس کے بعد بھی اگر حکومت تشکیل نہ پا سکی، جس کا زیادہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تو صدر نگران کابینہ مقرر کریں گے جو 2 ماہ بعد متوقع نئے انتخابات تک کام کرے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایک اور انتخاب، جو 2021 کے بعد 8واں انتخاب ہوگا، ممکنہ طور پر ایک شدید منقسم پارلیمنٹ کو جنم دے گا، جس سے سیاسی عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور بلغاریہ کے درمیان سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے پر تہنیتی پیغامات جاری
یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بلغاریہ یکم جنوری کو یورپی یونین کی مشترکہ کرنسی یورو اختیار کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
یورو کے حوالے سے مہنگائی کے خدشات، جنہیں مبینہ طور پر ماسکو کی جانب سے چلائی جانے والی غلط معلوماتی مہم نے ہوا دی، عوامی جوش و خروش کو کم کر رہے ہیں۔
بلغاریہ 2007 میں یورپی یونین کا رکن بنا تھا۔

ملک کے یورو زون میں شامل ہونے کی راہ روکنے کی آخری کوشش کے طور پر روس نواز جماعت وازراژدانے نے پارلیمنٹ میں ایک مسودۂ قرارداد میں نئے بجٹ کی عدم موجودگی اور سیاسی عدم استحکام کا حوالہ دیتے ہوئے یورو زون میں شمولیت ایک سال کے لیے مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اگرچہ اس قرارداد کے منظور ہونے کے امکانات کم ہیں، تاہم ایسے اقدامات اس کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں جس میں آئندہ انتخابات تک اضافے کی توقع ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی پابندیاں، بلغاریہ نے واحد آئل ریفائنری بچانے کے لیے کوششوں شروع کر دیں
اور یہ کشیدگی بلغاریہ کے مغرب نواز رخ میں تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ صدر رادیف آئندہ پارلیمانی انتخابات سے قبل ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دے سکتے ہیں۔

بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صدر رادیف، مغرب نواز حکومت کی جانب سے یوکرین کی حمایت پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار اوگنیان منچیف کے مطابق بلغاریہ میں وہ سیاسی قوتیں جو کریملن کے ہمارے ملک پر اثر و رسوخ کے منصوبے کو روک سکتی ہیں، خود ملکی پالیسیوں پر باہمی اختلافات کا شکار ہیں۔













