پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل (پی آئی بی ٹی) نے اپنے کاروباری دائرہ کار میں نمایاں توسیع کرتے ہوئے پورٹ قاسم اتھارٹی اور ریکوڈک مائننگ کمپنی کے ساتھ نئے معاہدے کر لیے ہیں۔
کمپنی نے ان معاہدوں کی تفصیلات پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ریکوڈک منصوبہ بلوچستان کی ترقی کا نیا باب ثابت ہوگا، کنٹری مینیجر ضرار جمالی
مذکورہ خط کے مطابق، ریکوڈک مائننگ کمپنی کے ساتھ ہونے والے نئے معاہدے کے بعد پی آئی بی ٹی اب سونے اور تانبے کے کارگو کنسنٹریٹ کی ہیڈلنگ، اسٹوریج اور برآمد کی سہولیات فراہم کرے گا۔
اس پیش رفت کو کمپنی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے پی آئی بی ٹی کی خدمات روایتی بلک کارگو سے آگے بڑھ کر قیمتی معدنیات تک پھیل جائیں گی۔
KARACHI: PIBT has signed a deal with Reko Diq Mining Company to handle cargo concentrate and secured supplemental concessions from the Port Qasim Authority to manage handling, storage and export of copper-gold and other mineral commodities, the company informed the PSX on Monday. pic.twitter.com/saHGsADqMh
— HILALIANS (@hilalians8) December 15, 2025
خط میں مزید بتایا گیا ہے کہ ریکوڈک مائننگ کمپنی کے ساتھ کارگو کنسنٹریٹ سے متعلق نیا معاہدہ طے پا چکا ہے، جس کے نتیجے میں پورٹ قاسم اتھارٹی کے ساتھ بھی ایک سپلیمنٹری امپلی مینٹیشن ایگریمنٹ پر دستخط کیے گئے ہیں۔
اس اضافی معاہدے کے ذریعے ریکوڈک منصوبے سے برآمدات کے لیے درکار آپریشنل اور انتظامی فریم ورک کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔

پورٹ قاسم اتھارٹی کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کے بعد پی آئی بی ٹی کو ریکوڈک سے معدنیات کی برآمد کے لیے اضافی مراعات اور خصوصی حقوق حاصل ہو گئے ہیں، جو کمپنی کی مسابقتی حیثیت کو مزید مستحکم کریں گے۔
مزید پڑھیں: ریلوے کی یورپ اور وسطی ایشیا تک رسائی کیسے ممکن ہوگی؟ حنیف عباسی نے بتادیا
ماہرین کے مطابق ریکوڈک منصوبہ پاکستان کے بڑے معدنی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے، اور پی آئی بی ٹی کی شمولیت نہ صرف کمپنی کی آمدنی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے بلکہ ملکی برآمدات اور بندرگاہی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملنے کا امکان ہے۔
یہ پیش رفت اس امر کی عکاس ہے کہ پاکستان میں لاجسٹکس اور پورٹ انفراسٹرکچر کو معدنی شعبے سے جوڑنے کی عملی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔













