بنگلہ دیش پولیس نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں گرفتار صحافی انیس عالمگیر کے لیے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست دائر کر دی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اترہ ویسٹ تھانے کے تفتیشی افسر انسپکٹر محمد منیر الزمان نے پیر کے روز ریمانڈ کی درخواست جمع کرائی۔ اس درخواست پر سماعت ڈھاکا چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کورٹ میں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے: عوامی لیگ پر پابندی ہٹائے بغیر انتخابات ناقابلِ قبول ہوں گے، حسینہ واجد کا اعلان
انیس عالمگیر کو اتوار کی شب ڈھاکا میٹروپولیٹن پولیس کے ڈیٹیکٹو برانچ (ڈی بی) دفتر لایا گیا تھا، جہاں ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انیس عالمگیر نے بتایا کہ انہیں اتوار شام تقریباً ساڑھے 7 بجے ڈھاکا کے دھان منڈی علاقے میں ایک جم سے ڈی بی کی تحویل میں لیا گیا اور بعد میں بتایا گیا کہ ڈی بی چیف ان سے بات کریں گے۔
پیر کی دوپہر ڈی ایم پی ڈی بی چیف محمد شفیق الاسلام نے بتایا کہ انیس عالمگیر کو انسدادِ دہشت گردی کے ایک مقدمے میں ڈیٹیکٹیو برانچ نے گرفتار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں صحافی سمیت 5 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
ریمانڈ درخواست میں الزامات
ریمانڈ کی درخواست کے مطابق انیس عالمگیر نے تقریباً ایک ماہ قبل ایک ٹی وی ٹاک شو کے دوران یہ تبصرہ کیا تھا کہ ’عوامی لیگ کے بعض نامعلوم رہنماؤں نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔‘
درخواست میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ دیگر شریک ملزمان نے تصدیق شدہ فیس بک اکاؤنٹس پر حالیہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے تنقیدی اور طنزیہ بیانات دیے، جنہیں تفتیش کاروں نے اشتعال انگیز اور حکومت مخالف قرار دیا ہے۔
یہ بھی ہڑھیے: ڈھاکا میں عوامی لیگ کا اچانک جلوس، 7 کارکن ریمانڈ پر، ایک جیل بھیج دیا گیا
پولیس کا مؤقف ہے کہ ملزمان نے باہمی رابطے سے تصدیق شدہ فیس بک پیجز اور یوٹیوب چینلز کے ذریعے ایسا مواد پھیلایا جس سے عوامی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا، تشدد پر اکسانے اور مبینہ طور پر سازش، اقدامِ قتل یا افراد کو شدید نقصان پہنچانے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
پولیس کے مطابق مدعی نے اس معاملے سے متعلق آن لائن لنکس اور تبصروں کو بطور ثبوت جمع کیا اور بعد ازاں تھانے میں درخواست دی، جسے باضابطہ مقدمے میں تبدیل کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انیس عالمگیر کو ڈی بی کے لالباغ ڈویژن نے دھان منڈی سے گرفتار کیا، تاہم وقت کی کمی کے باعث فوری طور پر تفتیش ممکن نہ ہو سکی۔ تفتیش کاروں کے مطابق 7 روزہ ریمانڈ دیگر مفرور ملزمان کی گرفتاری، ممکنہ مزید کرداروں کی نشاندہی اور مکمل تفتیش کے لیے ضروری ہے۔














