بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا عوامی تقریب میں حجاب کھینچنے کے شرمناک واقعے پر جہاں ملک بھر میں غصہ پایا جاتا ہے، وہیں مرکزی وزیر گیرراج سنگھ کا بیان جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ثابت ہوا ہے۔
گیرراج سنگھ نے اس عمل کو نہ صرف جائز ٹھہرانے کی کوشش کی بلکہ متاثرہ خاتون ہی کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گیرراج سنگھ نے کہا کہ اگر خاتون تقرری نامہ لینے آئی تھی تو چہرہ چھپانے کی کیا ضرورت تھی۔
ناقدین کے مطابق یہ بیان خواتین کی ذاتی آزادی، آئینی حقوق اور مذہبی وقار پر براہِ راست حملہ ہے، جو ایک ذمہ دار مرکزی وزیر کے منہ سے انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
مزید پڑھیں: حجاب تنازع: بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے خلاف لکھنؤ میں مقدمے کی درخواست دائر
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ گیرراج سنگھ کا یہ رویہ دراصل اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں خواتین کے جسم، لباس اور مذہبی شناخت کو طاقت کے مظاہرے کا میدان بنا لیا جاتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ خاتون نے چہرہ کیوں چھپایا، سوال یہ ہے کہ کسی مرد سیاستدان کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ عوامی اسٹیج پر کسی خاتون کی مرضی کے خلاف اس کے پردے پر ہاتھ ڈالے۔
https://www.ndtv.com/india-news/whats-wrong-with-it-union-minister-giriraj-singh-jumps-to-nitish-kumars-defence-9834786
یہ واقعہ پٹنہ میں آیوش ڈاکٹروں کو تقرری نامے دینے کی تقریب کے دوران پیش آیا، جہاں نائب وزیرِ اعلیٰ سمرت چودھری نے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی، مگر نتیش کمار کا عمل سب کے سامنے ریکارڈ ہو گیا۔
اس کے بعد جنتا دل یونائیٹڈ اور بی جے پی کی قیادت کی جانب سے وضاحتوں اور دفاعی بیانات کا سلسلہ شروع ہوا، جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید غیر حساس اور اشتعال انگیز ہوتا جا رہا ہے۔
گیرراج سنگھ سے قبل اقلیتی بہبود کے وزیر اور این ڈی اے کے دیگر رہنماؤں کے بیانات بھی سامنے آ چکے ہیں، جنہیں خواتین تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے شرمناک جواز تراشی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی خواتین کو بااختیار بنانے کا تصور ہے تو یہ طاقت نہیں بلکہ کھلی پدرشاہی اور اقلیت دشمن ذہنیت ہے۔
مزید پڑھیں: بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے خاتون کا حجاب کھینچنے کا واقعہ، پاکستانی کیا کہتے ہیں؟
اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ این ڈی اے حکومت کا اصل چہرہ اب پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے، جہاں خواتین کے احترام کے دعوے محض نعرے ہیں اور عملی طور پر ان کی مرضی، عقیدے اور وقار کو روند دیا جاتا ہے۔ آر جے ڈی اور کانگریس نے گیرراج سنگھ کے بیان کو فوری طور پر واپس لینے اور عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ معاملہ اب صرف نتیش کمار کے ایک عمل تک محدود نہیں رہا، بلکہ گیرراج سنگھ جیسے مرکزی وزیر کے بیان نے اسے خواتین، اقلیتوں اور جمہوری اقدار کے خلاف ایک بڑی سیاسی لڑائی میں تبدیل کردیا ہے، ایک ایسی لڑائی جس میں خاموشی بھی جرم سمجھی جا رہی ہے۔












