منجمد روسی اثاثوں پر اختلافات، یورپی یونین نے یوکرین کے لیے متبادل منصوبہ اپنالیا

جمعہ 19 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یورپی یونین کے رہنماؤں نے فیصلہ کیا ہے کہ روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کے لیے آئندہ 2 برسوں تک فنڈز فراہم کرنے کے لیے خود قرض لیا جائے گا، جبکہ منجمد روسی اثاثے استعمال نہیں کیے جائیں گے۔

اس فیصلے کے ذریعے روسی خودمختار اثاثوں سے یوکرین کی مالی مدد کے متنازع اور غیر معمولی منصوبے پر پیدا ہونے والے اختلافات سے وقتی طور پر احتراز کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین کو دھچکا، نیٹو ممبر کا منجمند روسی اثاثوں پر یوکرین کو قرض دینے سے انکار

یورپی یونین کے سربراہی اجلاس کے چیئرمین انتونیو کوسٹا نے برسلز میں رہنماؤں کے طویل مذاکرات کے بعد جمعے کی صبح ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ یوکرین کو 90 ارب یورو فراہم کرنے کی منظوری دیدی گئی ہے۔

 https://Twitter.com/bundeskanzler/status/2001833920019743203

انہوں نے بتایا کہ فوری طور پر یورپی یونین کے بجٹ کی ضمانت کے ساتھ قرض فراہم کیا جائے گا۔

رہنماؤں نے یورپی کمیشن کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ روس کے منجمد اثاثوں پر مبنی نام نہاد ’زرِ تلافی قرض‘ پر کام جاری رکھے، تاہم یہ آپشن اس مرحلے پر قابلِ عمل ثابت نہ ہو سکا، خاص طور پر بیلجیم کی مزاحمت کے باعث، جہاں روسی اثاثوں کا بڑا حصہ رکھا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:یورپی پارلیمنٹ کی منظوری، سعودی عرب اور یورپی یونین کے تعلقات میں نئی شراکت داری کی راہ ہموار

ابتدا میں یورپی یونین کی جانب سے قرض لینے کا منصوبہ مشکل دکھائی دے رہا تھا کیونکہ اس کے لیے تمام رکن ممالک کی متفقہ منظوری ضروری تھی اور روس کے قریب سمجھے جانے والے ہنگری کے وزیرِاعظم وکٹر اوربان اس کی مخالفت کر رہے تھے۔

تاہم ہنگری، سلوواکیہ اور جمہوریہ چیک نے اس شرط پر منصوبے کی اجازت دے دی کہ اس کا مالی بوجھ ان پر نہیں پڑے گا۔

مزید پڑھیں: یورپی پارلیمنٹ کی منظوری، سعودی عرب اور یورپی یونین کے تعلقات میں نئی شراکت داری کی راہ ہموار

یورپی رہنماؤں نے واضح کیا کہ یورپی یونین میں موجود 210 ارب یورو مالیت کے روسی اثاثے اس وقت تک منجمد رہیں گے جب تک ماسکو یوکرین کو جنگی نقصانات کا ازالہ نہیں کرتا۔

اگر روس ایسا کرتا ہے تو یوکرین انہی رقوم سے قرض واپس کر سکے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی حکمت عملی میں روس کے لیے نرم مؤقف، یورپی ممالک میں تشویش بڑھ گئی

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے مطابق یہ یوکرین کے لیے اچھی اور روس کے لیے بری خبر ہے، اور یورپی یونین کا مقصد بھی یہی تھا۔

یورپی یونین کے مطابق یوکرین کے لیے مالی وسائل کا بندوبست نہ کیا جاتا تو اگلے سال کی دوسری سہ ماہی تک اس کے پاس فنڈز ختم ہو سکتے تھے، جس کے نتیجے میں روس کے خلاف جنگ ہارنے کا خدشہ تھا۔

مزید پڑھیں: دنیا بھر میں یوکرین کی مدد کا جذبہ خاصا ٹھنڈا پڑ گیا، پولینڈ کے وزیراعظم کا اعتراف

یورپی یونین کو اندیشہ ہے کہ ایسی صورت میں روسی جارحیت کا خطرہ یورپ کے مزید قریب آ سکتا ہے۔

یہ فیصلہ منجمد روسی اثاثوں پر مبنی غیر معمولی قرض کے تکنیکی پہلوؤں پر طویل بحث کے بعد سامنے آیا، جو اس مرحلے پر حد درجہ پیچیدہ اور سیاسی طور پر مشکل ثابت ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک بھارت میچ سے قبل بابر اعظم کا جونیئر کھلاڑیوں کو اہم مشورہ

اپوزیشن احتجاج جاری، اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، تحریک تحفظ آئین کا الزام

ایپسٹین اسکینڈل کی گونج برطانیہ تک، سابق سفیر مینڈلسن سے جواب طلب

آلو کے کاشتکاروں کے لیے خوشخبری: مریم نواز کا وزیراعظم شہباز شریف کو برآمدات بڑھانے کے لیے خط

گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی یونٹ فعال، خصوصی تھانہ قائم

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟