بنگلہ دیش کے انقلابی پلیٹ فارم ’انقلاب منچ‘ نے حکومت کو طلبہ تحریک کے شہید رہنما شریف عثمان ہادی کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: طلبا تحریک کے شہید رہنما عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت
ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں افراد جمع ہوئے جو شریف عثمان ہادی کی جنازہ نماز کے بعد شاہ باغ چوراہے پر احتجاج کے لیے موجود تھے۔ عثمان ہادی انقلاب منچ کے ترجمان اور جولائی کے عوامی احتجاج کے اہم رہنما و تحریک کے ترجمان تھے۔
ہادی کی تدفین کے بعد، انقلاب منچ کے رکن سیکریٹری عبداللہ الجابر نے شاہ باغ چوراہے پر دھرنا دے کر اعلان کیا کہ اگر حکومت ہادی کے قاتلوں کو اتوار شام 5:15 بجے تک گرفتار نہیں کرتی تو وہ دوبارہ شاہ باغ میں دھرنا دیں گے۔
اس دوران موجود افراد نے ’انقلاب زندہ باد‘ اور ’دہلی نہیں ڈھاکہ ڈھاکہ، ڈھاکہ’ کے نعرے لگائے۔
شرکا نے مطالبہ کیا کہ شاہ باغ چوراہے کا نام تبدیل کرکے اسے ’ہادی چتور‘ رکھا جائے۔
اطلاع کے مطابق لوگ تقریباً 3:30 بجے سے شاہ باغ چوراہے پر جمع ہونا شروع ہو گئے تھے جس کے باعث گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہو گئی۔
مزید پڑھیے: عثمان ہادی کے انتقال پر بنگلہ دیش میں آج سرکاری سوگ کا اعلان
ہادی کی تدفین کے بعد تقریباً 4:30 بجے احتجاج میں اضافہ ہوا جس سے آس پاس کے علاقوں میں شدید ٹریفک جام پیدا ہو گیا۔ کئی لوگ وہاں عصر کی نماز بھی ادا کرتے دکھائی دیے۔
اس سے قبل عثمان ہادی کی جنازہ نماز قومی پارلیمنٹ بلڈنگ کے ساؤتھ پلازہ میں دوپہر 2:30 بجے ادا کی گئی اور تدفین قومی شاعر قازی نذرالاسلام کی قبر کے پاس ڈھاکہ یونیورسٹی مرکزی مسجد کے قریب ہوئی۔
شریف عثمان ہادی جو آنے والے قومی انتخابات میں ڈھاکہ-8 حلقے کے پارلیمانی امیدوار تھے 12 دسمبر کو ڈھاکہ کے پالتن علاقے میں مسلح افراد کے حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے۔
انہیں ابتدائی علاج کے لیے ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال اور ایور کیئر اسپتال منتقل کیا گیا اور بعد ازاں علاج کے لیے سنگاپور بھیجا گیا۔
مزید پڑھیں: انقلاب منچہ کے کنوینیئر پر حملہ: بنگلہ دیشی حکومت کا ملزم کی گرفتاری میں مدد پر 50 لاکھ ٹکا انعام کا اعلان
ہادی کا انتقال جمعرات کی رات سنگاپور جنرل ہسپتال میں علاج کے دوران ہوا اور ان کا جسد خاکی جمعے کو وطن پہنچا۔














