قومی و صوبائی اسمبلیاں ملک میں قانون سازی کے لیے قائم کی گئی ہیں۔ آئین میں ترمیم بھی انہی اسمبلیوں کے ذریعے کی جاتی ہے، جبکہ عام قانون سازی بل یا ایکٹ کے ذریعے ہوتی ہے اور سادہ اکثریت سے منظوری کے بعد بل قانون کا حصہ بن جاتا ہے۔
وی نیوز نے قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ سال 2025 کے دوران کس اسمبلی نے کتنی قانون سازی کی۔
یہ بھی پڑھیں:مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے قومی اسمبلی کے کتنے اجلاسوں میں شرکت کی؟
سال 2025 میں قومی اسمبلی نے 55 بل اور 8 آرڈیننس منظور کیے، جبکہ سینیٹ نے 75 بل منظور کیے۔ صوبائی اسمبلیوں میں سب سے زیادہ قانون سازی پنجاب اسمبلی میں ہوئی، جہاں 108 بل منظور کیے گئے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی نے 26 بل، سندھ اسمبلی نے 7 بل اور 23 ایکٹ، جبکہ بلوچستان اسمبلی نے 24 ایکٹ منظور کیے۔
قومی اسمبلی سے رواں سال مجموعی طور پر 55 بل منظور کیے گئے، جن میں 42 حکومتی بل اور 13 پرائیویٹ ممبر بل شامل تھے۔ موجودہ اسمبلی نے 22 ماہ کے دوران اب تک مجموعی طور پر 71 حکومتی بل اور 20 پرائیویٹ ممبر بل منظور کیے ہیں۔ رواں سال منظور ہونے والے اہم بلوں میں اسلام آباد چائلڈ میرج بل، ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات کا بل، دانش اسکول بل، پاکستان آرمی، پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی ترمیمی بل، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل، سول سرونٹ بل، سول کورٹس بل اور ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل شامل ہیں۔

اس سال 2 مرتبہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس طلب کیے گئے، جن میں مجموعی طور پر 7 بل منظور کیے گئے۔ مشترکہ اجلاس سے منظور ہونے والے اہم بلوں میں امپورٹ ایکسپورٹ بل اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق بل شامل ہیں۔
قومی اسمبلی میں سال 2025 کے دوران 8 آرڈیننس پیش کیے گئے، جن میں انکم ٹیکس، سوسائٹی رجسٹریشن، سی ڈی اے ترمیمی آرڈیننس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری آرڈیننس شامل ہیں۔
رواں سال سینیٹ سے بھی بڑی تعداد میں بل منظور کیے گئے۔ مجموعی طور پر 75 بل سینیٹ سے منظور ہوئے، جن میں 37 پرائیویٹ ممبر بل اور 38 حکومتی بل شامل تھے۔ سینیٹ سے منظور ہونے والے اہم بلوں میں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات کا بل، نیشنل اسمبلی ملازمین کی تنخواہوں کا بل، اسپیشل ٹیکنالوجی زونز بل، سی پیک اتھارٹی ترمیمی بل، انسداد دہشتگردی بل، قانون شہادت بل اور پاکستان آرمی، پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی ترمیمی بل شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:قومی اسمبلی میں دلچسپ منظر، گرے ہوئے پیسوں کے 12 دعویدار سامنے آگئے، ویڈیو وائرل
لاہور سے وی نیوز کے نمائندے عارف ملک کے مطابق پنجاب اسمبلی میں رواں سال سب سے زیادہ 109 بل منظور کیے گئے۔ سب سے زیادہ بل اپریل کے مہینے میں منظور ہوئے، جن کی تعداد 18 تھی۔ تعلیم، صحت، مالیات، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی حکومت سمیت مختلف شعبوں سے متعلق حکومتی اور پرائیویٹ ممبر بل منظور کیے گئے۔ اس کے علاوہ سال بھر میں 76 قراردادیں بھی اسمبلی سے منظور ہوئیں۔ پنجاب اسمبلی کے دوسرے سال میں اب تک 15 سیشن ہو چکے ہیں، جو مجموعی طور پر 82 دن تک جاری رہے۔
پشاور سے وی نیوز کے نمائندے سراج الدین کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی سے اس سال مجموعی طور پر 26 بل منظور کیے گئے۔ حیران کن طور پر اگست کے بعد نہ کوئی نیا بل پیش کیا گیا اور نہ ہی منظور ہوا، جبکہ 11 جون کو ایک ہی دن میں 6 بل منظور کیے گئے۔ اس کے علاوہ سال بھر میں خیبر پختونخوا اسمبلی نے مجموعی طور پر 29 ایکٹ بھی منظور کیے۔

کراچی سے وی نیوز کے نمائندے وقاص خان کے مطابق سندھ اسمبلی سے سال 2025 کے دوران 7 بل اور 23 ایکٹ منظور کیے گئے۔ منظور کیے گئے اہم قوانین میں سندھ اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا بل، سیکنڈری ایجوکیشن بل، سندھ ایگریکلچر ٹیکس بل، سندھ کرمنل پروسیکیوشن سروس ترمیمی ایکٹ، سندھ موٹر وہیکلز ٹیکسیشن ایکٹ، شہید بے نظیر بھٹو انسٹیٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ فیڈرلزم ایکٹ، سندھ سول کورٹس ایکٹ، سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ترمیمی ایکٹ، سندھ سینٹر فار ایکسیلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریم ازم ایکٹ، آغا خان پراپرٹیز ایکٹ، سندھ فنانس ایکٹ اور اینٹی ٹیررازم (سندھ ترمیمی) ایکٹ شامل ہیں۔
کوئٹہ سے وی نیوز کے نمائندے غالب نہاد کے مطابق بلوچستان اسمبلی نے سال 2025 کے دوران 24 ایکٹ منظور کیے۔ ان میں بلوچستان سول سرونٹ ایکٹ، بلوچستان ٹیکس آن لینڈ اینڈ ایگریکلچر ایکٹ، بلوچستان زکوٰۃ اینڈ عشر ایکٹ، بلوچستان انڈسٹریل ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن ایکٹ، بلوچستان سول وکٹمز آف ٹیررازم ایکٹ، بلوچستان مائنز اینڈ منرلز ایکٹ، بلوچستان موٹر وہیکل ایکٹ، بلوچستان فنانس ایکٹ اور دیگر اہم قوانین شامل ہیں۔

اس کے علاوہ جولائی سے نومبر کے دوران بلوچستان مٹرنل اینڈ پیٹرنل ڈیتھ سرویلنس اینڈ رسپانس ایکٹ، بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ سروسز کوئٹہ ایکٹ، بلوچستان انسٹیٹیوشنل ہیلتھ ریفارمز ایکٹ، بلوچستان پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف وومن ایٹ ورک پلیس ایکٹ، شیخ محمد بن زید النہیان کارڈیالوجی ہسپتال ایکٹ، بلوچستان ریونیو ایکٹ، بلوچستان لیویز فورس ایکٹ، بلوچستان فارنزک سائنس ایجنسی ایکٹ، پروونشل اسمبلی پریولیجز ایکٹ، چائلڈ میرج ایکٹ اور سیف اینڈ انوائرمنٹلی ساؤنڈ ری سائیکلنگ آف شپ ایکٹ منظور کیے گئے۔













