اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی سے ستمبر) کے دوران ملک میں مجموعی طور پر 2.8 ارب ریٹیل ادائیگیاں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو ڈیجیٹل نیشن بنانے کی جانب قدم، ایک اور سنگ میل عبور کرلیا گیا
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں ریٹیل ادائیگیوں میں 10 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق پہلی سہ ماہی میں ریٹیل ادائیگیوں کی مجموعی مالیت ایک لاکھ 66 ہزار ارب پاکستانی روپے سے تجاوز کر گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موبائل ایپس کے ذریعے ادائیگیاں بینکاری نظام کو وسعت دے رہی ہیں اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رجحان مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 90 فیصد ریٹیل ادائیگیاں ڈیجیٹل ذرائع سے کی گئیں جبکہ نقد ادائیگیوں کا حصہ صرف 10 فیصد رہا۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ پہلی سہ ماہی کے ادائیگیوں کے اعداد و شمار پاکستان کے تیزی سے ڈیجیٹل ہوتے نظام کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔
مزید پڑھیے: ‘صرف کیش’، ڈیجیٹل پیمنٹ وصول نہ کرنے پر اسلام آباد کا معروف ریسٹورنٹ سیل
مرکزی بینک کے مطابق موبائل ایپس کے ذریعے 2 ارب ادائیگیاں کی گئیں جن کی مجموعی مالیت 33 ہزار 700 ارب روپے رہی۔ مجموعی ڈیجیٹل ادائیگیوں میں موبائل ایپس کا حصہ 81 فیصد رہا۔
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ انٹرنیٹ بینکاری اور کارڈ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک بھر میں اس وقت 6 کروڑ 13 لاکھ پیمنٹ کارڈز زیرِ گردش ہیں جن میں 90 فیصد ڈیبٹ کارڈز جبکہ 4 فیصد کریڈٹ کارڈز شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فوری ادائیگی نظام ’راست‘ کے ذریعے فرد سے فرد کو کی جانے والی ادائیگیوں کی مالیت 11 ہزار 300 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ فرد سے مرچنٹ کو راست کے ذریعے 43 لاکھ ادائیگیاں کی گئیں جن کی مالیت 17 ارب روپے رہی۔ مجموعی طور پر راست کے ذریعے 12 ہزار 800 ارب روپے کی 54 کروڑ 40 لاکھ ادائیگیاں کی گئیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق پی او ایس ٹرمینلز اور ای کامرس سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ کارڈز کے ذریعے یومیہ اوسطاً 15 لاکھ ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ ملک میں موجود 20 ہزار 527 اے ٹی ایمز کے نیٹ ورک سے 3 ماہ میں 2 کروڑ 60 لاکھ ٹرانزیکشنز ہوئیں جن کی مالیت 4 ہزار 500 ارب روپے رہی۔
مزید پڑھیں: واٹس ایپ ہیکنگ اور سائبر فراڈ سے بچاؤ، پی ٹی اے کی صارفین کو ہشیار رہنے کی ہدایت
مرکزی بینک نے بتایا کہ 3 ماہ کے دوران بینکوں کے ذریعے 1 لاکھ 10 ہزار ارب روپے کی ایک کروڑ 37 لاکھ ادائیگیاں ہوئیں، جبکہ برانچ لیس بینکاری ایجنٹس نے ایک کروڑ 29 لاکھ ٹرانزیکشنز کے ذریعے 900 ارب روپے کی ادائیگیاں کیں۔














