پاکستان کے خلاف بیان دینے والے افغان شہری کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق افغان باشندہ شاہ نواز کی پاکستان مخالف بیان پر مبنی ویڈیو گزشتہ روز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: طیارے کے پہیے میں چھپ کر دہلی پہنچنے والا افغان لڑکا ڈی پورٹ
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ افغان شہری شاہ نواز کو داؤدزئی کے علاقے میں واقع مہاجر کیمپ خزانہ سے گرفتار کیا گیا۔
دورانِ تفتیش ملزم نے پاکستان مخالف بیان دینے کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے عمل پر معافی بھی مانگی ہے۔
𝗔𝗳𝗴𝗵𝗮𝗻 𝗥𝗲𝗳𝘂𝗴𝗲𝗲 𝗔𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝘀 𝗶𝗻 𝗣𝗼𝗹𝗶𝗰𝗲 𝗖𝗼𝗻𝗳𝗲𝘀𝘀𝗶𝗼𝗻 𝗩𝗶𝗱𝗲𝗼 𝗔𝗳𝘁𝗲𝗿 𝗦𝗼𝗰𝗶𝗮𝗹 𝗠𝗲𝗱𝗶𝗮 𝗥𝗲𝗺𝗮𝗿𝗸𝘀
Peshawar police released a video showing a forced confession by an Afghan refugee currently in custody. The man was arrested after a… pic.twitter.com/2azpniP2a4— Afghan Analyst (@AfghanAnalyst2) December 30, 2025
پولیس کے مطابق گرفتار افغان شہری نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو بیان میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ خیبر پختونخوا کا علاقہ اٹک تک افغانستان کا حصہ ہے اور وہ یہاں سے کہیں نہیں جائیں گے۔
ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی پشاور میں خزانہ تھانے کے ایس ایچ او نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا، جہاں اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
مزید پڑھیں: افغان باشندے غیر قانونی راستوں سے یورپ جانے کے لیے پاکستان کا استعمال کیسے کرتے ہیں؟
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد اسے افغانستان ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ریاستی خودمختاری اور ملکی سالمیت کے خلاف کسی بھی بیان یا سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: امریکا نے افغان اسپیشل امیگرنٹ ویزا منسوخ کر دیا، ہزاروں خاندان پھنس گئے
واقعے کے بعد شہر میں سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی خاصی بحث دیکھنے میں آئی۔
بعض شہریوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ملزم کو اٹک لے جانا چاہیے تھا، تاہم پولیس نے واضح پیغام دیا کہ یہ افغانستان نہیں، قانون کی حد ہے۔
مزید پڑھیں: چاغی میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے 179 افغان شہری گرفتار
یاد رہے کہ حکومتِ پاکستان نے یکم اپریل 2025 سے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کر رکھا ہے، جس کے تحت اب تک لاکھوں افغان باشندوں کو وطن واپس بھیجا جا چکا ہے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائیاں قانون کے مطابق اور ملکی سلامتی کے پیش نظر جاری رہیں گی۔












