بنگلہ دیش کے جنوب مغربی ضلع جیسور میں ہفتے کی شام اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے ایک مقامی رہنما کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، جس کے بعد واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
پولیس اور اہلِ خانہ کے مطابق مقتول عالمگیر حسین جیسور میونسپلٹی کے تحت بی این پی کی وارڈ نمبر 7 یونٹ کے جوائنٹ جنرل سیکریٹری تھے اور اس سے قبل سٹی بی این پی کمیٹی کے رکن بھی رہ چکے تھے۔ وہ موٹر سائیکل پر گھر واپس جا رہے تھے کہ ایک مقامی اسکول کے قریب نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی اور موقع سے فرار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں متنازع بیان وائرل ہونے پر طلبا تحریک کے مقامی رہنما گرفتار
عالمگیر حسین کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق انہیں سر پر گولیوں کے مہلک زخم آئے تھے۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (کرائم) ابوالبشر نے بتایا کہ پولیس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے اور سیاسی و کاروباری پہلوؤں سمیت تمام ممکنہ محرکات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے، جبکہ تاحال ملزمان کی شناخت نہیں ہو سکی۔
سینیئر بی این پی رہنماؤں نے اسپتال کا دورہ کیا اور اس قتل کو اپوزیشن کارکنوں کے خلاف منظم تشدد قرار دیتے ہوئے اسے قابلِ مذمت اور غیر جمہوری عمل کہا۔
یہ بھی پڑھیے: عام انتخابات سے قبل جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے مرکزی رہنما کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد
اہلِ خانہ اور مقامی افراد کے مطابق عالمگیر حسین ایک پُرامن طبیعت کے انسان تھے اور زمین کی خرید و فروخت کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ ان کے بھائی نے بتایا کہ خاندان اس واقعے پر شدید صدمے میں ہے اور انصاف کا مطالبہ کرتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ داروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔














