پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان 190 ملین پاؤنڈ کیس اور توشہ خانہ ٹو کیس میں اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں، جہاں انہیں تمام بنیادی سہولیات میسر ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کے نمائندے کی جانب سے جاری ایک رپورٹ حال ہی میں سامنے آئی جس میں کہا گیا کہ سابق وزیرِاعظم عمران خان کو تنہائی میں قید رکھا گیا ہے، اور انہیں سہولیات میسر نہیں، تاہم یہ رپورٹ حقائق کے منافی ہے۔
مزید پڑھیں: اڈیالہ جیل میں عمران خان کی صحت، ملاقاتوں اور سہولیات سے متعلق تفصیلات سامنے آ گئیں
اس رپورٹ کے جواب میں پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ عمران خان اب تک قریباً 500 عدالتی پیشیوں میں شریک ہو چکے ہیں، 10 سے زیادہ غیر ملکی میڈیا انٹرویوز دے چکے ہیں، 3 ماہ کے دوران 70 سے زیادہ افراد نے ان سے ملاقات کی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ عمران خان معمول کے مطابق برطانیہ میں مقیم اپنے بیٹوں سے فون پر رابطے میں بھی ہیں، جو اس تاثر کے برعکس ہے کہ وہ دنیا سے کٹے ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے ریمارکس ان کی ذاتی رائے ہے، نہ کہ اقوامِ متحدہ یا ہیومن رائٹس کونسل کی پالیسی، اور یہ قابلِ تصدیق حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے لابی کے زیرِ اثر بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ عمران خان کو جیل میں 7 کمروں پر مشتمل سہولت فراہم کی گئی ہے، ورزش کے لیے مخصوص آلات موجود ہیں، روزانہ طبی سہولت میسر ہے، قانونی اور سیاسی ملاقاتیں باقاعدگی سے ہوتی ہیں، جبکہ ان کی بہنیں ہفتہ وار میڈیا بریفنگز بھی دیتی ہیں۔ اس کے باوجود ’خاموش قیدی‘ کا بیانیہ بار بار دہرایا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ عمران خان جیل سے اپنی جماعت کی قیادت جاری رکھے ہوئے ہیں، جو پاکستان کی جیل تاریخ میں ایک غیر معمولی سہولت ہے۔
جوابی مؤقف میں کہا گیا کہ اگر خصوصی نمائندہ نے عوامی طور پر دستیاب ریکارڈ جن میں 500 عدالتی سماعتیں، درجنوں ملاقاتیں، غیر ملکی میڈیا تک رسائی اور متحرک سیاسی سرگرمیاں شامل ہیں، کو مدنظر رکھا ہوتا تو تنہائی کی اصطلاح استعمال ہی نہ کی جاتی۔
ادھر اڈیالہ جیل حکام کا کہنا ہے کہ عمران خان کو جیل میں روزانہ پڑھنے کو اخبار دی جاتی ہے اور وہ روزانہ ورزش بھی کرتے ہیں۔
’بانی پی ٹی آئی عمران خان کی خوراک، مطالعہ اور ورزش کا خاص خیال رکھا جاتا ہے جبکہ سیکیورٹی کے بھی تمام انتظامات کیے گئے ہیں۔‘
حکام نے بتایا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے سیل میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی ہوتی ہے، ان کو اپنا کھانا الگ سے پکانے کے لیے قیدی کک فراہم کیا گیا ہے، پروفیشنل قیدی کک ان کا ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا عمران خان کی مرضی سے تیار کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان جیل میں کیا کچھ کھا پی رہے ہیں؟ حیران کن تفصیلات
’عمران خان ناشتے میں کافی، چیہ سیڈ، چقندر کا جوس، دہی، چپاتی، بسکٹ اور کھجوریں استعمال کرتے ہیں، دوپہر کے کھانے میں کڑی پکوڑا، دیسی مرغی، دہی، چپاتی، سلاد، گرین ٹی، مٹن اور رات کو دلیہ، کوکونٹ، کوکونٹ جوس اور انگور وغیرہ کھاتے ہیں۔‘
مزید یہ بھی بتایا گیا کہ عمران خان کو ہفتے میں ایک بار اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی سے بھی ملاقات کرائی جاتی ہے۔ ان کی صحت اور روزمرہ معمولات میں کوئی مسئلہ نہیں۔














