کراچی کے اولڈ سٹی ایریا میں ایک مقام ایسا بھی ہے جہاں مصالحوں کی خوشبو آتی ہے، وہیں ایک خاص گلی ایسی ہے جہاں کانوں میں دھات کے ٹکرانے کی آوازیں اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی اسٹیل، تانبے اور پیتل کی چمک استقبال کرتی ہے۔
یہ کراچی کی مشہور برتن مارکیٹ ہے، جو دہائیوں سے نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ اور بلوچستان کی ضروریات پوری کررہی ہے۔
مزید پڑھیں: خشک سالی میں امید کی کرن: بلوچستان میں روایتی ہنر سے پانی کی تلاش
اس گلی کی تاریخ قیامِ پاکستان سے بھی پرانی ہے۔ مقامی تاجروں کے مطابق یہ علاقہ ہندو تاجروں کا گڑھ تھا جو تانبے اور پیتل کے بھاری برتنوں کا کاروبار کرتے تھے۔ اس وقت ہاتھ سے بنے ہوئے منقش برتنوں کا رواج تھا۔
ہجرت کرکے آنے والے مسلمان کاریگروں اور تاجروں نے یہاں ڈیرے جمائے۔ دلی اور مراد آباد (بھارت) سے آنے والے کاریگر اپنے ساتھ برتن سازی کا ہنر لائے۔
1980 کی دہائی تک یہاں پیتل اور تانبے کا راج تھا، لیکن وقت کے ساتھ مہنگائی اور دیکھ بھال کی مشکل کی وجہ سے اسٹین لیس اسٹیل اور اب نان اسٹک اور پلاسٹک نے جگہ لے لی ہے۔
60 برس سے اس مارکیٹ میں کام کرنے والے غلام محمد کا کہنا ہے کہ پہلے شادی بیاہ میں پورا جہیز پیتل کا دیا جاتا تھا، گاہک کو چیز کی کوالٹی کی پہچان تھی۔ اب گاہک صرف سستی اشیا مانگتا ہے۔ چین کے سامان نے ہماری مقامی صنعت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے کام سیکھا مگر اب ان کی اولاد اس کام میں دلچسپی نہیں رکھتی کیونکہ منافع کم اور مقابلہ سخت ہے۔
غلام محمد کے مطابق وہ کاریگر جو پرانے برتنوں کو چمکاتے تھے یا ان پر قلعی کرتے تھے، اب ناپید ہو رہے ہیں۔ برتنوں کو پالش کرنے والے مزدور اکثر سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ دھات کا باریک ذرہ ان کے اندر تک چلا جاتا ہے۔
’صبح سے شام تک ہتھوڑا چلانے اور بھٹی کے سامنے بیٹھنے والے کاریگر کی دیہاڑی بمشکل اتنی بنتی ہے کہ وہ اپنے گھر کا راشن پورا کر سکے۔‘
مزید پڑھیں: وادی نیلم کا ہنر: لکڑی کی تراشی ہوئی مصنوعات جو دنیا بھر میں مقبول ہیں
مارکیٹ میں 60 سے 70 فیصد سامان چین کا ہے جو دکھنے میں خوبصورت لیکن پائیداری میں کم ہوتا ہے۔ لوہے اور اسٹیل کی قیمتوں میں اضافے نے مقامی مینوفیکچرنگ یونٹس کو بند کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
گاہکوں کے لیے یہاں آنا ایک امتحان ہے، کیونکہ گلیاں تنگ ہیں اور پارکنگ کا کوئی انتظام نہیں، جس سے کاروبار متاثر ہوتا ہے۔













