پی آئی اے سی ایل کے 650 ارب روپے کے قرض کو ’بلیک ہول‘ قرار دیتے ہوئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی یعنی پی اے سی نے فائنانس ڈویژن کی جانب سے قابلِ عمل ادائیگی حکمتِ عملی تیار نہ کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سید نوید قمر کی زیر صدارت پی اے سی کے اجلاس میں وزارتِ دفاع کے ایوی ایشن ڈویژن کے سال 24-2023 کے آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل محمد علی (ریٹائرڈ) نے کمیٹی کے ارکان کو آڈٹ رپورٹس میں اٹھائے گئے اعتراضات پر بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ مختلف آڈٹ رپورٹس میں جن واجبات کی نشاندہی کی گئی تھی، ان میں سے زیادہ تر پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ دفاعی کمیٹی کا اجلاس، کوئٹہ کے ہوائی کرایوں اضافے اور چترال پروازوں کی معطلی پر تشویش
ایئر وائس مارشل محمد عامر حیات، چیف ایگزیکٹو آفیسر پی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ فائنانس ڈویژن نے تاحال پی آئی اے کے ان واجبات کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، جو پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ میں رکھے گئے ہیں۔
اس پر چیئرمین کمیٹی نے ان واجبات کو ’بلیک ہول‘ قرار دیا۔
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ 2005 کے مطابق آڈٹ میں نشاندہی کی گئی کہ مسافروں سے وصول کی گئی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور ایڈوانس ٹیکس، کٹوتی کی تاریخ سے 45 دن کے اندر سرکاری خزانے میں جمع کرانا لازم تھا۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے نجکاری میں حکومت کے ساتھ ہاتھ، شاہد خاقان کی کونسی پیشگوئی درست ثابت ہوئی؟
پی آئی اے کے فائنانس ڈیپارٹمنٹ کے سال 2022 کے آڈٹ کے دوران یہ مشاہدہ کیا گیا کہ انتظامیہ ٹیکسوں اور سرکاری واجبات کی بروقت ادائیگی نہیں کر رہی تھی، جس کے باعث واجبات میں نمایاں اضافہ ہوا اور ادارے کی موجودہ لیکویڈیٹی پوزیشن بھی متاثر ہوئی۔
وزارتِ دفاع کے ایک اہلکار نے جواب میں بتایا کہ مجموعی 131.5 ارب روپے کے واجبات میں سے 115 ارب روپے اسکیم آف ارینجمنٹ کے تحت پہلے ہی ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کیے جا چکے ہیں، جبکہ 9 ارب روپے مختلف قانونی مقدمات کے باعث زیرِ التوا ہیں۔
مزید پڑھیں: نجکاری کمیشن بورڈ کا اجلاس: پی آئی اے کے لیے عارف حبیب کنسورشیم کی بولی کی منظوری
کمیٹی نے پی آئی اے انتظامیہ کو 5 ارب روپے کی واجبات کی وصولی کی ہدایت کی۔
کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ پی آئی اے کی دو متنازع جائیددایں جو وفاقی حکومت اور حکومتِ سندھ کے درمیان تنازع کا شکار تھیں، انہیں بھی پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کر دیا گیا ہے۔
مذکورہ متنازع جائیدداوں میں ایک کے ڈی اے اسکیم-I، کارساز کراچی میں واقع فٹبال گراؤنڈ اور دوسرا لاڑکانہ میں قائم سمبارا اِن ہوٹل شامل ہیں۔














