ایشیز سیریز میں آسٹریلیا کے ہاتھوں 4-1 کی شکست کے بعد انگلینڈ کے سابق کپتان جیفری بائیکاٹ نے اپنی ٹیم پر کڑی تنقید کی ہے۔
بائیکاٹ نے کہا کہ انگلینڈ کی ٹیم اس وقت تک بدل نہیں سکتی جب تک موجودہ مغرور انتظامیہ قائم ہے۔ انہوں نے برینڈن میکلم، راب کی اور بین اسٹوکس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تینوں نے پچھلے 3 برس میں عوام کو جھوٹ بولا اور انگلینڈ کرکٹ لورز کو مایوس کیا۔
مزید پڑھیں: انگلینڈ کو تیسرے ٹیسٹ میں بھی شکست، آسٹریلیا نے ایک بار پھر ایشیز سیریز اپنے نام کرلی
ان کے مطابق، برینڈن میکلم اور راب کی نے ہمیشہ یہی دعویٰ کیا کہ وہ ایشیز کی بھرپور تیاری کر رہے ہیں، مگر اس سیریز میں ٹیم نے مسلسل غلطیاں کیں اور 4-1 کی شکست سے زیادہ بہتر نتائج کے لائق نہیں تھی۔
Alex Carey scores the winning runs as Australia claims a 4-1 series win.#Ashes | #PlayoftheDay | @nrmainsurance pic.twitter.com/SfFwXWibrn
— cricket.com.au (@cricketcomau) January 8, 2026
بائیکاٹ نے کہا کہ میرا خیال ہے برینڈن میکلم کی فلاسفی یہی ہے کہ اپنے انداز میں کھیلو اور دنیا کی پرواہ نہ کرو۔
سابق کپتان نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں کو آزادی دی گئی کہ وہ اپنا اظہار کریں، آؤٹ ہو جائیں تو کوئی پرواہ نہیں، کسی کو ڈراپ نہیں کیا جاتا اور کوئی احتساب نہیں ہوتا۔ ان کے بقول، یہ آزادی کھلاڑیوں کے لیے فری لائسنس کے مترادف بن گئی ہے، جس سے ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوئی۔
جیفری بائیکاٹ نے کہا کہ انگلینڈ کے پاس باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں، مگر ان کی مہارت کو بروئے کار نہیں لایا گیا۔ تینوں منتظمین آسٹریلیا میں ایشیز جیتنے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے بھی مسلسل غلط فیصلے کرتے رہے، حالانکہ آسٹریلیا میں کامیاب سابق کرکٹرز نے بار بار خبردار کیا۔
Congratulations to our Australian Men’s Cricket Team on securing the NRMA Insurance Ashes series 4-1 🇦🇺#Ashes pic.twitter.com/0VWis6gA5P
— Cricket Australia (@CricketAus) January 8, 2026
مزید پڑھیں: پہلے ایشیز ٹیسٹ سے قبل آسٹریلیا کو بڑا دھچکا، پیٹ کمنز باہر، نیا کپتان کون ہوگا؟
انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ کپتان نے سابق کھلاڑیوں کو ماضی کا حصہ قرار دے کر نہ صرف خود کو بلکہ سابق کرکٹرز کو بھی بے عزت کیا۔ بائیکاٹ کے مطابق، یہ انتظامیہ اپنی ملازمتیں کھونا کبھی نہیں چاہتی کیونکہ انہیں بہت زیادہ معاوضہ ملتا ہے۔














