پاکستان دفتر خارجہ نے ہفت وار پریس بریفنگ میں زور دیا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنی تقدیر خود طے کرنے کا حق بھارت نے چار دہائیوں سے مسلسل محدود رکھا ہوا ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ 5 جنوری کو منایا جانے والا ’ایشیئن ڈے فار دی پیپل آف جموں و کشمیر‘ اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 5 جنوری 1949 کو جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے قرار داد منظور کی تھی۔ پاکستان کشمیری عوام کو ان کے جائز حقوق کے حصول کے لیے اخلاقی، سیاسی اور سفارتی سطح پر مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
کشمیری عوام کے حقوق اور بھارتی مظالم
دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی، بنیادی حقوق اور وقار سے محرومی کے ذریعے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو مسلسل محدود رکھا ہوا ہے۔ بھارتی حکام کی طرف سے کشمیری قیادت کو خاموش کرانے، میڈیا کو دبانے، غیر قانونی حراست اور چھاپہ مہمات عام ہو گئی ہیں۔ ہزاروں کشمیری رہنما اور سول سوسائٹی کے اراکین قید میں ہیں اور کئی افراد نے طویل عرصے تک قید کا صبر کیا ہے۔ صحافی عرفان مہاراج بھی بھارتی قابض حکام کی انتقامی کارروائیوں کے باعث جیل میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وینزویلا کی صورتحال پر نظر، پاکستانی شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات جاری ہیں، دفتر خارجہ
دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی غیر قانونی قبضہ پالیسی اور آبادیاتی تبدیلی کے اقدامات کشمیری عوام کو ان کے ہی وطن میں محروم اور کمزور کمیونٹی میں تبدیل کرنے کی کوشش ہیں، جو بین الاقوامی قوانین اور خودارادیت کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
پاکستان کشمیری عوام کے جائز حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور عالمی برادری کو بھارت پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر زور دے گا۔
پاک چین تعلقات میں اعتماد کا اظہار
دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ 4 جنوری 2026 کو جاری مشترکہ اعلامیے میں پاکستان اور چین نے تمام شعبوں میں تعلقات کو مستحکم کرنے پر اتفاق کیا، جن میں سیاسی تعاون، دفاع و سلامتی، معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، ثقافتی اور عوامی تبادلے، اور بین الاقوامی و علاقائی امور شامل ہیں۔ دونوں جانب نے ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کے تحفظ پر غیر متزلزل تعاون جاری رکھنے پر زور دیا۔













