بھارت سے تعلق رکھنے والی مہیما گھائی کی شادی کی تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں جہاں انہوں نے گنجے سر کے ساتھ دلہن بن کر نہ صرف سب کی توجہ حاصل کی بلکہ خوبصورتی، نسوانیت اور خود قبولیت سے متعلق ایک اہم بحث کو بھی جنم دیا ہے۔
مہیما گھائی، جو ایلوپیشیا کے باعث کم عمری میں ہی بالوں سے محروم ہو گئی تھیں نے اپنی شادی کے دن کسی وِگ یا مصنوعی سہارے کا انتخاب نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگی کے اس اہم دن پر کسی اور کا روپ نہیں دھارنا چاہتیں تھیں بلکہ خود کو اسی شکل میں قبول کرنا چاہتی تھیں جیسا وہ حقیقت میں ہیں۔
View this post on Instagram
سرخ روایتی لہنگے میں ملبوس مہیما کبھی بغیر دوپٹے کے اور کبھی ہلکے سے سر ڈھانپے نظر آئیں۔ ان کے انداز میں نہ جھجک تھی اور نہ ہی وضاحت کی کوئی کوشش۔ یہی سادگی اور اعتماد ان کی تصاویر کو غیر معمولی بنا گیا۔
اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں مہیما نے بتایا کہ بالوں کے جھڑنے کا تجربہ صرف جسمانی نہیں بلکہ جذباتی طور پر بھی تکلیف دہ رہا۔ علاج، سوالات، نظریں اور خاموشیاں برسوں تک ان کے ساتھ رہیں جس کے باعث وہ طویل عرصے تک خود کو چھپانے کی کوشش کرتی رہیں۔ تاہم ایک مرحلے پر انہوں نے اس بوجھ کو اتارنے کا فیصلہ کیا اور اپنا سر منڈوانا ان کے لیے بغاوت نہیں بلکہ سکون بن گیا۔
View this post on Instagram
شادی کی تصاویر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر سے خواتین نے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ ایلوپیشیا، کینسر اور دیگر وجوہات سے بالوں کے جھڑنے کا سامنا کرنے والی کئی خواتین نے کہا کہ مہیما کو اس اعتماد کے ساتھ دیکھ کر انہیں بھی خود کو قبول کرنے کا حوصلہ ملا۔
مہیما کا کہنا تھا کہ وہ اپنی شادی کی یادوں میں خود کو پہچاننا چاہتی تھیں، نہ کہ کسی ایسے روپ میں دیکھیں جو معاشرتی توقعات کے تحت اپنایا گیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ بال ہوں یا نہ ہوں، میں کبھی نامکمل نہیں تھی۔













