خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے جمعہ 9 جنوری سے شروع ہونے والے دورہ کراچی نے شہر قائد کے سیاسی ماحول میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی کارکنان اپنے لیڈر کے استقبال کے لیے پرجوش ہیں تو دوسری جانب سندھ حکومت نے دورے کو امن و امان کی صورتحال سے مشروط کرتے ہوئے واضح پیغام جاری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کا دورہ کراچی، پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت طلب کرلی
پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کل کراچی پہنچیں گے۔ ان کے اس دورے کو سیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ متوقع طور پر وہ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کا جائزہ لیں گے اور کراچی میں پارٹی ورکرز کنونشن یا عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سہیل آفریدی سندھ میں موجود پی ٹی آئی کی مقامی قیادت اور دیگر سیاسی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
سندھ حکومت کے وزرا، بالخصوص وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کی جانب سے اس دورے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ان کے بیانات میں خوش آمدید کے ساتھ ساتھ انتباہ بھی شامل ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سہیل آفریدی اگر بطور وزیر اعلیٰ صوبائی دورے پر آ رہے ہیں تو ہم انہیں ویلکم کہیں گے اور انہیں مکمل سرکاری پروٹوکول دیا جائے گا جو ان کا آئینی حق ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دورے کا مقصد امن و امان خراب کرنا، جلاؤ گھیراؤ یا انتشار پھیلانا ہوا تو قانون حرکت میں آئے گا اور کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ کراچی کا امن ہمیں ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔
ترجمان حکومت سندھ مصطفیٰ عبداللہ نے اس حوالے سے وی نیوز کو بتایا کہ کسی بھی صوبے کے وزیر اعلیٰ کا دورہ کراچی میں آئین کے مطابق پروٹوکول اور تحفظ فراہم کیا جائے گا، وہ جہاں جانا چاہیں جا سکتے ہیں کوئی ایسا مسلئہ نہیں ہوگا، دوسری جانب ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پبلک گیدرنگ یا کوئی اور سیاسی عمل کرنے کا ایک پروٹوکول ہوتا ہے، ان کی تنظیم اس حوالے سے اجازت مانگے گی لیکن اب تک ان کی جانب سے اس دورے کا واضح مقصد نہیں بتایا گیا کیا وہ جلسہ کرنے آرہے ہیں کوئی ریلی ہوگی یا ویسے ہی دورہ کرنے آرہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر دورہ کرنے آرہے ہیں تو سندھ اب کی طرح ان کو بھی خوش آمدید کہتا ہے لیکن اس کے علاوہ کوئی ایسا عمل جس سے انتشار پھیلنے کا خدشہ ہو تو وہ کوئی صوبہ برداشت نہیں کرتا نہ ہی ہم کریں گے جہاں تک بات باغ جناح میں جلسے کی ہے تو اس کا طریقہ کار ہوتا ہے جسے اپنانا پڑے گا۔
پاکستان تحریک انصاف سندھ کی قیادت نے وزیر اعلیٰ کے استقبال کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کے مطابق کراچی کے عوام اپنے کپتان کے سپاہی کا بھرپور استقبال کریں گے۔ سیاسی سرگرمیاں ان کا آئینی حق ہیں اور سندھ حکومت اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے ان کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ دورہ کراچی کی سیاست میں ایک نیا رخ ثابت ہوگا۔
پاکستان تحریک انصاف کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل فردوس شمعیم نقوی نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دور میں لوگوں کو شعور دینا ہمارا فرض ہے اور عمران خان نے سہیل آفریدی کو کہا ہے کہ جاؤ اس ملک کے 65 فیصد نوجوانوں تک میرا پیغام پہنچاؤ اسی سلسلے میں سہیل آفریدی کراچی آرہے ہیں۔
فردوس شمعیم نقوی کا کہنا ہے کہ کیوں کہ سہیل آفریدی وزیر اعلی ہیں اس وجہ سے اس دورے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور قانونی طور پر تحفظ مل جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ہماری پارٹی کی قیادت کو کم کم سے کم 10 اور کچھ رہنماؤں کو 100 مقدمات کا سامنا ہے، ہمیں تو عدالتوں سے ہی چھٹی نہیں ملتی کہ ہم اپنے شہر سے باہر نکل سکیں کچھ کام کر سکیں اس لیے یہ ذمے داری سہیل آفریدی کو سونپی گئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کا باغ جناح میں جلسے کے لیے درخواست بھی دی ہے لیکن صدر پی ٹی آئی کراچی ڈویژن راجہ اظہر کے مطابق انتظامیہ نے تاحال جلسے کا این او سی جاری نہیں کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے جلسے کی اجازت کے حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا، ڈپٹی کمشنر ایسٹ کوئی واضح جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
راجہ اظہر نے کہا کہ سہیل آفریدی کل کراچی پہنچیں گے کل کا دن کراچی میں گزارنے کے بعد ہفتے کو حیدرآباد جائیں گے جہاں پارٹی کی سرگرمیوں میں شرکت کے بعد واپس کراچی آئیں گے اور اتوار کو باغ جناح میں جلسے میں شریک ہوں گے۔
سندھ پولیس اور انتظامیہ نے وزیر اعلیٰ کی آمد کے موقع پر سیکیورٹی کا پلان ترتیب دے دیا ہے تاہم پولیس کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کا دورہ لاہور، کیا پی ٹی آئی پنجاب سے ورکرز نکال پائے گی؟
انٹیلی جنس رپورٹس کی روشنی میں حساس مقامات پر نفری بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔














