بلورکن صوبائی اسمبلی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا ہے کہ سی پیک جیسے بڑے منصوبے میں بلوچستان کو عملی طور پر کچھ بھی نہیں دیا گیا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا کہ پیٹرول کی بچت سے بلوچستان میں قومی شاہراہیں بنائی جائیں گی صوبے کے عوام کی کھلی توہین کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان کے خلاف اشتعال انگیز بیان پر مقدمہ درج
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ جس صوبے کو سی پیک کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے اس میں آج تک اس منصوبے کے تحت کوئی ایک بھی بڑا ترقیاتی منصوبہ نظر نہیں آتا۔
مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ اگر بلوچستان نہ ہوتا تو نہ گوادر ہوتا اور نہ ہی سی پیک وجود میں آتا مگر اس کے باوجود صوبے کو موٹرویز، جدید ٹرانسپورٹ یا صنعتی منصوبوں سے محروم رکھا گیا۔
ان کے مطابق پاکستان کے دیگر حصوں میں سی پیک کے تحت ہزاروں کلومیٹر طویل سڑکیں اور بڑے منصوبے بنے مگر بلوچستان میں ایک کلومیٹر موٹروے بھی تعمیر نہیں کی گیا۔
انہوں نے بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 2 برس صوبے کے لیے انتہائی مشکل رہے ہیں۔
مزید پڑھیے: کراچی پولیس رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان کے بیٹے کو کیوں تلاش کر رہی ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ بدامنی، خوف اور عدم تحفظ کی فضا برقرار ہے آج بھی کئی علاقوں میں رات کے وقت سفر پر پابندیاں ہیں اور عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خوف کا یہ ماحول عام شہریوں کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر بھی پایا جاتا ہے۔
مولانا ہدایت الرحمان نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں صحت کے شعبے اور ادویات کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے مگر 7 ماہ گزرنے کے باوجود سرکاری اسپتالوں میں ایک روپے کی دوا نہیں پہنچی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صرف دعوے اور بیانات تک محدود ہے جبکہ عملی طور پر عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اس وقت غربت، بے روزگاری، جہالت اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی کا شکار ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع معمول بنتا جا رہا ہے جبکہ صحت اور تعلیم جیسے شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں۔
ہدایت الرحمان کے مطابق قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود صوبے کے عوام بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: کیا امیر جماعت اسلامی منتخب ہونے کے بعد مولانا ہدایت الرحمان گوادر میں مقبول رہیں گے؟
سوئی گیس کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ بلوچستان سے نکلنے والی گیس پورے ملک کو فراہم کی جاتی رہی مگر آج بھی سوئی کے مقامی لوگ لکڑیاں جلا کر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح سونا، چاندی اور دیگر معدنی وسائل صوبے سے نکالے گئے مگر جن علاقوں سے یہ وسائل نکلے وہاں آج بھی صاف پانی، اسکول اور صحت کی سہولیات موجود نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے عوام کسی سے خیرات نہیں مانگتے بلکہ اپنے وسائل پر حق مانگتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ریکوڈک، سی پیک اور معدنی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن صوبے پر ہی خرچ کی جائے تو بلوچستان خود کفیل بن سکتا ہے۔
مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کی بنیادی وجہ ناقص طرزِ حکمرانی، کرپشن اور میرٹ کی پامالی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر عوام دوست، بااختیار اور دیانتدار حکمرانی قائم ہو جائے تو صوبے کے مسائل حل کرنا مشکل نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کیا مولانا ہدایت الرحمان نے جماعت اسلامی چھوڑ دی؟
انہوں نے زور دیا کہ عوام کو عزت، انصاف، روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم کیے بغیر ترقی کے دعوے محض نعرے ہی رہیں گے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے خبر میں شامل ویڈیو۔













